جاپانیوں کا ایران سے تعلق محض دیکھاوا نہیں: سابق ایرانی عہدیدار

تہران، 11 جون، ارنا - ایران کے سابق نائب وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ جاپانیوں کا ایران سے تعلق محض دیکھاوا نہیں کیونکہ جب وہ کسی منصوبے پر عمل پیرا ہوتے ہیں تو بڑے حساب کتاب سے اس کو منطقی انجام تک پہنچاتے ہیں.

«ابراہیم رحیم پور» نے منگل کے روز ارنا نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایران اور جاپان کے تعلقات کو 90 سال پورے ہو رہے ہیں اور اس پورے تمام عرصے میں دونوں ممالک کے تعلقات پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا.
انہوں نے کہا کہ جاپانی حکام بغیر سوچ سمجھ کہ کوئی کام نہیں کرتے اور نہ ہی ان کے اقدامات دیکھاوے کے لئے ہوتے ہیں.

رحیم پور نے کہا کہ جاپانی وزیر اعظم کا دورہ ایران، ایک حساس اور نازک صورتحال میں انجام ہو رہا ہے اور اسلامی انقلاب کے بعد یہ جاپان کے کسی وزیر اعظم کا پہلا دورہ ہے. اس پہلے 1978 میں جاپان کے اس وقت کے وزیر اعظم "تاکئو فوکودا" نے تہران کا دورہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ چاپان بین الاقوامی سطح میں اپنے کردار کو بڑھانے کا خواہاں اور یقینی طور پر جاپانی وزیر اعظم، ٹرمپ کی گرین لائٹ اور امریکہ کی رضامندی کیساتھ ایران کا دورہ کر رہا ہے اس کے علاوہ ٹوکیو میں ایرانی وزیر خارجہ کے حالیہ دورہ جاپان بھی سفارتی چینلوں کے ذریعے منصوبہ بندی کی گئی تھی.

سابق ایرانی عہدیدار نے شینزو آبے کے دورہ ایران کی وجوہات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں جاپان کا ثالثی کردار ادا کرنے کا ایک سبب یہ ہے کہ جاپان، خلیج فارس کے علاقے میں کشیدگی بڑھانے اور ایک اور جنگ کا خواہاں نہیں ہے کیونکہ جنگ اور کشیدگی میں اضافہ، تیل کی قیمت میں اضافہ کرنے کے علاوہ جاپانی مصنوعات کی مارکیٹ پر نقصان پہنچائے گا.

سرکاری اعلان کے مطابق، جاپانی وزیراعظم کا دورہ 12 سے 14 جون تک ہوگا۔.
9410٭274٭٭
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 7 =