ٹرمپ دور میں مسلمانوں کیخلاف امتیازی سلوک میں شدید اضافہ

تہران، 10 جون، ارنا - ایرانی پارلیمنٹ کی جانب سے انسانی حقوق سے متعلق امریکی کارکردگی پر رپورٹ شائع ہوئی جس میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک میں شدید اضافہ ہوا ہے.

ایران کی اسلامی مجلس شوریٰ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے ترجمان علی نجفی نے رپورٹ کو پڑھ کر سنایا.
یہ رپورٹ گزشتہ سال انسانی حقوق کے امور پر امریکہ کی کارکردگی پر شائع ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بر سر اقتدار آنے کے بعد مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک میں شدید اضافہ ہوا ہے.
یہ رپورٹ چار حصوں میں شامل ہے، امریکہ کے اندرونی حالات میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی، عالمی سطح پر امریکہ کی انسانی حقوق کی خلاف وزری، قومی سلامتی کے حتمی نقطہ نظر اور پارلیمنٹ کی خارجہ پالیسی.
رپورٹ کے مطابق، امریکہ نے ماضی میں ہمیشہ انسانی حقوق کا نام نہاد علمبردار ہونے کا دعویٰ کیا تھا جبکہ اس نے دوسرے ملکوں میں مداخلت کرتے ہوئے انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی ہیں.
ایرانی مجلس نے مزید کہا کہ امریکہ نے عوامی سطح پر اسلام فوبیا کی سازش کو ہوا دی، سیاہ فام شہریوں کے خلاف ظالمانہ اقدامات میں اضافہ کیا، ماوارئے عدالت کیسز اور ملزموں کے خلاف غیرشفاف عدالتی کاروائیوں میں بھی شدت اختیار کی.
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں میڈیا سے نفرت میں بھی اضافہ ہوا جبکہ ٹرمپ نے میڈیا کو عوام کا دشمن قرار دیا تھا اور اس نے میڈیا کی آزادی کے خلاف جنگ کا آغاز بھی کیا جس نے عالمی سطح پر امریکہ کی پوزیشن کو کمزور کردیا.
ایرانی پارلیمنٹ کے مطابق، سعودی عرب اپنے اتحادیوں سے مل کر یمنی عوام پر جارحیت کا آغاز کیا جس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے مگر امریکہ اس پر خاموش ہے، امریکہ یمن کے خلاف جنگ میں برابر کا شریک بھی ہے. وہ سعودی عرب میں قید ہزاروں عورتوں پر بھی خاموش ہے.
عالمی اعداد و شمار کے مطابق، یمنی عوام کے خلاف جارحیت کرنے والوں کی جانب سے استعمال ہونے والے ہتھیاروں کے دو تھائی امریکی ساختہ اسلحہ ہے.
9410٭274٭٭
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 3 =