جرمنی، جوہری معاہدے کے 3 یورپی ارکان کے کردار کا تعاقب کر رہا ہے: ظریف

 تہران، 9 جون، ارنا-  اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ان کے جرمن ہم منصب، ایران جوہری معاہدے کے تحفظ اور اس بین الاقوامی معاہدے میں شریک دیگر تین یورپی ممالک کے کردار کو تعاقب کرنے کے حوالے سے ایران کا دورہ کریں گے۔

"محمد جواد ظریف" نے اتوار کے روز ایرانی پارلیمنٹ میں قائم سلامتی کمیٹی کے ارکان کیساتھ ایک اجلاس میں شرکت کی۔



 ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہونے والے اجلاس میں ملک کی تازہ ترین تبدیلیوں، ایران مخالف امریکی دباؤ، ان کے حالیہ علاقائی دورں، جرمن وزیر خارجہ اور جاپانی وزیر اعظم کے آئندہ دورہ ایران سمیت صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی کے آنے والے دنوں میں وسطی ایشیائی ممالک کے دورے کے بارے تبادلہ خیال کیا گیا۔



 انہوں نے جرمن وزیر خارجہ کے آئندہ دورہ ایران کے بارے میں وضاحتین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی، ایران جوہری معاہدے کے تحفظ کا خواہاں ہے۔



ظریف نے مزید کہا کہ ایران نے اب تک جوہری معاہدے کے اصولوں کے عین مطابق عمل کیا ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کا حالیہ اقدام بھی در اصل اس بین الاقوامی معاہدے کے اصولوں کی بنیاد پر ہے۔



ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے کے تحت مغربی ممالک سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایران کو جوہری معاہدے کے ثمرات سے مستفید ہونا ہے لہذا ہمیں تعلقات کی بحالی کو عملی طور پر دیکھنا ہے کیونکہ صرف باتیں کرنے سے کچھ نہیں بنتا ہے۔



انہوں نے مزید کہا کہ ایسا نہیں لگتا ہے کہ جرمن وزیر خارجہ کوئی خاص پیغام لے کر ایران کا دورہ کریں گے در اصل جرمنی، ایران جوہری معاہدے میں شامل دیگر تین یورپی ممالک کے کردار کا تعاقب کررہا ہے اور ہم بھی اس حوالے سے ان کیساتھ مذاکرات کریں گے۔



ظریف نے ڈیل آف سینچری کے حوالے سے کہا کہ یہ منصوبہ در اصل امریکی پالیسیوں کی عدم کامیابی کی وجہ سے ہے۔



انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی وہی ایران مخالف دباؤ میں اضافہ کرنا ہے اور اگر واشنگٹن مذاکرات کی بات کرتا ہے تو وہ عالمی رائے کے سامنے دکھاوے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔



 ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کو کوئی کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ صرف ایران اور دوسرے ممالک کے درمیان تعلقات کی راہ میں رکاوٹیں حائل نہ کرے۔



انہوں نے کہا کہ ہمیں نہ صرف امریکہ کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ ہم اس کےساتھ تعلقات برقرار کرنے کے خواہاں بھی نہیں ہیں۔



ظریف نے کہا کہ وہ معاشی جنگ جو ٹرمپ نے ان کا ذکر کیا ہے وہ در اصل معاشی دہشتگردی ہے جس کو رکنے کی ضرورت ہے۔



ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی کی اہم ترجیح بھی ہمسایہ ملکوں کیساتھ باہمی تعلقات کی توسیع ہے اور صدر روحانی کے آئندہ علاقائی دورے بھی اسی سلسلے میں ہیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@


آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 9 =