ایران کیساتھ اقتصادی تعلقات کو معمول بنانا جوہری معاہدے کے فریقین کی ذمہ داری ہے: ظریف

تہران، 9 جون، ارنا – ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو معمول بنانا یورپ اور جوہری معاہدے کے دوسرے فریقین کی ذمہ داری ہے اور ان کو بتانا چاہیئے کہ کس حد تک یہ موضوع معمول بن گیا ہے.

یہ بات "محمد جواد ظریف" نے اتوار کے روز "میرا مشن" کے عنوان سے منعقدہ پروگرام کے موقع پر صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.


اس موقع پر انہوں نے عنقریب غیرملکی حکام کے دورہ ایران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جاپانی وزیر اعظم اور جرمنی وزیر خارجہ کے دورہ تہران، صدر رئےوحانی کے دورے بشکیک اور دوشنبہ اور ان ممالک کے صدور کی ملاقات، اپنی پالیسی کی روشنی ڈالنے اور تمام ممالک کے خلاف ظالمانہ پالیسیوں سے مقابلہ کرنے کے لئے ایک مناسب موقعہ ہے.


ظریف نے پیر کے روز ایرانی اور جرمن وفود کے درمیان مذاکرات اور یورپ کی بد عہدی کے لئے جرمنی کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یورپ جوہری معاہدے اور کوئی موضوعات میں بھی اسلامی جمہوریہ ایران پر تنقید نہیں کرسکتا ہے.


انہوں نے کہا کہ مغربی پالیسی ہمارے علاقے پر خلل ڈالنے کا باعث ہوگئی ہے اور بعض ممالک سمیت جرمنی نے یمنی مظلوم عوام کی بمباری کے لئے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت کو روک دیا مگر مغربی ممالک جابر حکومتوں کو اپنے جرائم کو جاری رکھنے کی اجازت دے رہے ہیں.


ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو معمول بنانا یورپ اور جوہری معاہدے کے دوسرے فریقین کی ذمہ داری ہے اور اس معاہدے میں نتائج اہم ہے اور یورپ کو بھرپور کوشش کرنا چاہیئے.


انہوں نے ایرانی حکومت کی جانب سے جوہری معاہدے کے دوسرے فریقین کو 60 دن کے الٹی میٹم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم ان کے اقدامات کے مطابق فیصلہ کریں گے.


9393**


ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@



 

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 8 =