جاپان ایران اور امریکہ کے درمیان تنازعات کی کمی کی مدد کرسکتا ہے: ایرانی امریکی تجزیہ کار

تہران، 8 جون، ارنا – واشنگٹن کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی پروفیسر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جب تک ایران اور امریکہ اپنے تنازعات کے اہم مسائل کو حل نہ کریں کوئی ثالثی کامیاب نہیں ہوسکے گا، اس کے باوجود شاید جاپانی وزیر اعظم تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کی کمی کی مدد کرے گا.

یہ بات "شیرین ہانتر" نے ارنا نیوز ایجنسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.


اس موقع پر انہوں نے ایران مخالف دباؤ کے باوجود ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات کی تجویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران پر امریکی صدر ٹرمپ کے رویے کی تبدیلی کی اصلی وجہ امریکہ میں مشرق وسطی میں ایک دوسرے جنگ کے آغاز کی مخالفت ہے.


ہانتر نے کہا کہ نہ صرف کانگریس اور امریکی عوام بلکہ امریکہ کے یورپی اور ایشیائی اتحادی سمیت جاپان اور جنوبی کوریا بھی خطے میں دوسرے جنگ نہیں چاہتے ہیں.


انہوں نے کہا کہ اگر دوسرے جنگ کا آغاز ہوئے تو امریکہ مشرقی ایشیا میں اپنی فوج کو کم کرنے پر مجبور ہوگا جس مسئلہ امریکہ اور ان کے اتحادی کے لئے تشویش کا باعث بنے گا.


اس تجزیہ کار برائے امریکی مسائل نے ٹرمپ کی جانب سے تہران کے ساتھ مذاکرات کی تجویز اور بڑھتے ہوئے دباؤ کی پالیسی کے ممکنہ خاتمے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے رویے کی تبدیلی کا مقصد ایران مخالف بڑھتے ہوئے دباؤ کی کمی نہیں کیونکہ ٹرمپ نے آغاز سے کہا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ نئے مذاکرات چاہتا ہے.


انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کا ایران مخالف بڑھتے ہوئے دباو کا مقصد مذاکرات کی میز پر ایران کی واپسی ہے لہذا انہوں نے اس مقصد کی تک رسائی کے لئے ایک غلطی حکمت عملی کو منتخب کیا ہے مگر وہ آغاز سے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا خواہان ہے.


9393**


ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 7 =