ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کیلئے جاپانی وزیراعظم کی کامیابی کی سات وجوہات

تہران، 8 جون، ارنا – ایران کے سابق سفارتکار نے کہا ہے کہ جاپانی وزیر اعظم کا دورہ ایران، ایران کی کامیاب اور موثر سفارتکاری کی علامت ہے.

یہ بات 'سید حسین موسویان' نے ارنا کے نمائندے کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.



ہمیں آگے ہفتے کو 'ایرانی سفارتکاری ہفتے' کو جاننا چاہیے۔ ایسا لگتا ہے کہ جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے دوران ایرانی اسٹریٹیجک صبر اور واشنگٹن کے سخت دباؤ کے سامنے ایران کی اسٹریٹیجک رواداری اب پھل دے رہا ہے.



ایک طرف حالیہ ہفتوں اور مہینوں میں ایرانی وزیر خارجہ 'محمد جواد ظریف' کے مشاورتوں، مذاکرات، دوروں اور نقل و حرکت نے ایرانی سفارتکاری کو مزید فروغ دیا ہے اور دوسری طرف امریکہ جو سوچتا تھا ایران کی میز پر کوئی آپشن نہیں ہے اب جوہری معاہدے سے متعلق ایران کے وعدوں میں کمی لانے کے بعد چارہ جوئی کر رہا ہے.



اسی اثنا میں امریکی صدر 'ڈونلد ٹرمپ' کسی بھی ٹربیون سے ایران کیساتھ مذاکرات کا مطالبہ کر رہا ہے اور تہران میں اپنے پیغام پہنچنے کیلئے ثالثی ممالک سے ایک اتحاد قائم کیا ہے.



یورپ، جرمنی کے وزیر خارجہ "ہائیکو ماس' کو ایران میں بھیج رہا ہے لیکن اس ہفتے کا سب سے سفارتکاری اقدام جاپانی وزیراعظم شینرو آبے کا دورہ ایران ہے.



موسویان نے جاپانی وزیر اعظم کے آئندہ دورہ ایران پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ژاپن ایران کا سب بڑا تجارتی پارٹنر اور عالمی معیشت کی پانچ بڑی طاقتوں میں سے ہے.



انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کیلئے جاپان کا اقدام خیرخواہانہ اور عالمی برادری کے مفادات پر ہے.



ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سابق ڈپٹی سربراہ نے جاپان کی جانب سے ثالثی کردار تسلیم کرنے کی کیا وجوعات ہیں، کے سوال کے جواب میں کہا کہ عالمی طاقتوں میں جاپان امریکہ کے قریبی عالمی اتحادی ہے جس کا تعلقات ایران کے ساتھ باہمی احترام، مشترکہ مفادات ، عدم مداخلت اور تعمیری تعاون پر مبنی ہے تو جاپان ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کو کم کرنے میں بخوبی ثالثی کا کردار ادا کرسکتا ہے۔



موسویان نے کہا کہ جاپانی وزیر اعظم سے قبل، کئی ممالک کے حکام نے ثالثی کے مقصد سے ایران کا دورہ کیا مگر کامیابی حاصل نہ ہو سکے، کیا جاپانی وزیر اعظم اس لحاظ سے کامیاب ہو گا، کے جواب میں کہا کہ اس سلسلے میں جاپانی وزیر اعظم کی کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی ہے کیونکہ امریکہ کیساتھ مذاکرات کیلئے ایران کا شرط عالمی جوہری معاہدے سے امریکی کی واپسی ہے لیکن کوئی شرط کے بغیر جوہری معاہدے میں امریکی صدر کی واپسی، خودکشی کا مترادف ہے.



انہوں نے کہا کہ یقینی طور پر جاپانی وزیر اعظم، ٹرمپ کی گرین لائٹ کے ساتھ ایران کا دورہ کر رہا ہے ہر چند یہ سفر ٹرمپ کی درخواست کے مطابق نہیں لیکن اس نے جاپانی وزیر اعظم کی تجویز سے اتفاق کیا ہے.



ایرانی سابق سفارتکار نے کہا ایران کیساتھ مذاکرات کی درخواست کا مطلب ایران کے سامنے امریکہ کی شکست نہیں بلکہ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر 'انتہائی دباؤ' اور 'مذاکرات کی تجویز کو دہرانا' ایران کیخلاف ایک منصوبہ بندی شدہ پروگرام اور حکمت عملی ہے.



انہوں نے کہا کہ ثالثی کردار میں جاپانی وزیر اعظم کی کامیابی کے لیے مندرجہ ذیل 7 عوامل پر منحصر ہے:



پہلا : ایران ہمیشہ باہمی احترام،عدم مداخلت، قومی حاکمیت اور علاقائی سالمیت کے اصولوں پر اصرار کرتا ہے اور یہ اقوام متحدہ کے منشور کے اصول بھی ہے جس پر تمام فریقیں اور امریکہ کو عمل درآمد کرنا چاہیے۔



دوسرا: دوطرفہ حل کی بجائے کثیر الجہتی اور اجتماعی حل پر ترجیح دینا۔ مثال کے طور پر خلیج فارس کی سلامتی اور خلیج فارس کی توانائی کی منتقلی، جاپان کے لیے بہت اہم ہے.



جاپانی وزیر اعظم اس حوالے سے خلیج فارس ممالک کے درمیان اجتماعی تعاونوں کی ایک بڑی فہرست امریکہ، ایران، خطی ممالک، عالمی قوتوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی میز پر رکھ سکتا ہے.



 یہ اقدام اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قرارداد 598 کے فریم ورک کے اندر ہوگا جو ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور سعودی عرب اور ایران کے درمیان تنازعات کو روکنے کے لئے، جنگ کے خطرے کو کمزور کرنے، اور مشرق وسطی کے موجودہ بحرانوں کو حل کرنے کے لئے علاقائی تعاون کی فضا کو ہموار کر سکتا ہے.



اور چین، یورپ، روس اور بھارت جیسے دیگر طاقتیں اس اقدام کا خیر مقدم کریں گے.



تیسرا: ٹرمپ کو ایران کے معاملے میں فیصلہ سازی کے دائرے سے جنگ پسند اور انتہاپسند فورسز کو ہٹانا چاہیے ورنہ وہ فورسز اس کی کوششوں کے راستے میں رکاوٹ ڈالیں گی.



چوتھا: ٹرمپ ایران کیساتھ باہمی تعلقات کیلئے اسرائیل اور سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی قیادت میں عربی فرنٹ کی مداخلت سے روکے اور وائٹ ہاوس کے فیصلوں میں ان ممالک کی مداخلت کرنے کی اجازت نہ دے.



پانچواں: امریکہ کو سب سے پہلے پابندیوں اور عالمی ممالک کے اقتصادی معاملات خاص طور پر تیل کی برآمدات اور بینکنگ اور مالی تعلقات میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا اور جوہری معاہدے میں اپنی واپسی کیلئے اپنی آمادگی کا اظہار کرنا چاہیے.



چھٹواں: مذکورہ پانچ عنصر کے نفاذ کی صورت میں تہران بھی امریکہ کے ساتھ ایک پرامن طریقہ کار اپنائے



گا.



اور ساتھواں عنصر ایک حتمی حل ہے جو تہران اور امریکہ کے مفادات کے لیے فائدہ مند ہوسکے کیونکہ ممکن نہیں کہ دونوں ممالک اس حوالے سے ہتھیار ڈالیں.



9410٭

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@


آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 13 =