روس، ایران جوہری معاہدے کی کامیابیوں کے تحفظ کا خواہاں ہے

سینٹ پیٹرزبرگ، 6 جون، ارنا-  روسی صدر نے ارنا چیف سمیت دنیا کی چند اہم نامور نیوز ایجنسیوں کے سربراہوں کیساتھ ایک ملاقات میں وطن کے دفاع کے حوالے سے ایرانی عوام کی پرانی ثقافت اور جذبے وطن پرستی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ روس ایران جوہری معاہدے کی کامیابیوں کے تحفظ کا خواہاں ہے۔

ان خیالات کا اظہار "ولادیمیر پیوٹین" نے امریکی صدر "ڈونلڈ ٹرمپ" کی یکطرفہ پالیسیوں اور دوسرے ممالک کے حقوق کو نظر انداز کرنے کے حوالے سے ارنا چیف "سید ضیاء ہاشمی" کے سوال کے جواب میں کیا۔



روسی صدر نے ایران کیخلاف ہر طرح کے دباؤ کو غیر تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس راستے کا کوئی سرانجام نہیں ہوگا اور روس موجودہ مسائل کو ڈپلومٹیک طریقوں اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کیلئے اپنی ساری صلاحیتوں کو بروئے کار لائے گا۔



پیوٹین نے مزید کہا کہ ایران روس کا ہمسایہ ملک اور علاقائی اور حتی کہ بین الاقوامی معاملات میں روس کا شراکت دار ہے۔



انہوں نے کہا کہ ایران مخالف پابندیوں کے باجود، روس ایران کیساتھ سارے طے پانے والے معاہدوں کو سنجیدگی سے تعاقب کر رہا ہے اور ہمیشہ اپنے کیے گئے وعدوں پر قائم رہے گا۔



انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ در اصل عالمی برادری کو سب سے بڑے ملک کے سربراہ جس کے پاس ترقی یافتہ اسلحوں سمیت دنیا کی سب سے طاقتور فوج بھی ہے، کے ساتھ کس طرح برتاؤ کرنا ہے؟



روسی صدر نے مزید کہا کہ امریکی فوج کا بجٹ 700 ارب ڈالر ہے اور وہ دنیا کی سب سے بڑی فوج ہے جس کا دفاعی بجٹ ساری دنیا کے ممالک کا دفاعی بجٹ سے زیادہ ہے۔



انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ ہمیں دوسروں کیساتھ احترام پر مبنی برتاؤ کرنا ہے اور ہم امریکیوں اور امریکی صدر کیساتھ احترام پر مبنی سلوک کرتے ہیں لیکن اس بات کا مطلب یہ نہیں کہ ہم سارے معاملات کے حوالے سے ان کے فیصلوں اور اقدامات سے اتفاق کرتے ہیں۔



روسی صدر کا کہنا تھا کہ شاید بعض کے نقطہ نظر میں روس کا یہ رویہ صحیح نہ ہو لیکن ہم بعض مسائل کے حوالے سے امریکی موقف کے مخالف ہیں کیونکہ ہم امریکہ کی جانب سے سارے اٹھائے گئے اقدامات سے اتفاق نہیں کر سکتے ہیں۔



انہوں نے وینزویلا کے اندرونی بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ روس، وینزویلا میں امریکی اقدامات کا مخالف ہے۔



پیوٹین نے کہا کہ ایران کے سامنے روس کا موقف شفاف، واضح اور قابل قبول ہے اور ہم امریکہ کو ایسے رویے اپنانے سے دور رکھنے کے درپے ہیں جن کے ذریعے حالیہ سالوں میں حاصل کیے گئے مثبت نتایج ضائع نہ ہوجائیں۔



انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی نے بارہا جوہری معاہدے کے حوالے سے ایران کی شفاف کارکردگی کی تصدیق کی ہے۔



پیوٹین نے کہا کہ شاید بعض ممالک، ایران کے میزائل پروگرامز سمیت خطے یا روس میں اس کے اقدامات کی تنقید کریں یا کہ اس کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کریں لیکن ماسکو کے نقطہ نظر میں یہ سارے معاملات، ایران جوہری معاہدے سے الگ بات ہیں اور ہمیں اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ ایران، روس اور ترکی کی کوششوں کیساتھ ہم نے شام میں خونریزی کا خاتمہ دیا ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران نے اس حوالے سے بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔



انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کیجانب سے بہت بڑے تعمیری اقدامات اٹھانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض معاملات کے حوالے سے اختلافات کی وجہ سے دوسرے معاملات میں ترقی کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے لہذا اسلامی جمہوریہ ایران کیساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہوگا۔



روسی صدر نے کہا کہ امریکی صدر، ان کے موقف سے واقف ہیں اور امریکی وزیر خارجہ "مائیک پمپئو" بھی اپنے حالیہ دورہ روس میں پیوٹین کے موقف سے واقف ہوگیا ہے لیکن ڈپلومٹیک طور طریقوں کی وجہ سے میں وہ پمپئو کیساتھ اپنے کیے گئے مذاکرات کے موضوعات کو بیان نہیں کرسکتے ہیں۔



انہوں نے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کے حوالے سے ٹرمپ کے حالیہ اظہارات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک صحیح فیصلہ ہے کیونکہ جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی بہت خطرناک ہے جبکہ امریکی حالیہ رویے کا کوئی سرانجام  نہیں ہوگا۔



**9467



ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@




آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 11 =