جاپانی وزیر اعظم کا آئندہ دورہ ایران، خطے میں قیام امن و استحکام کا باعث ہوگا

بیجنگ، 6 جون، ارنا- جاپان ٹائمز اخبار نے وزیراعظم جاپان کے آئندہ دورہ ایران جو 12 جون میں ہوگا، پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بطور تہران اور واشنگٹن کے مشترکہ دوست کے "شنزو آبے" کا آئندہ دورہ ایران، خطے کی تنازعات میں کمی اور قیام امن و استحکام کا باعث ہوگا۔

جاپانی اخبار نے اپنے ایک مضمون میں ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کو کم کرنے کیے لئے ٹوکیو کی صلاحیتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جاپان اس حوالے سے موثر کردار ادا کر سکتا ہے۔


اس مضمون میں مزید لکھا گیا ہے کہ جاپان ایران اور امریکہ کا مشترکہ دوست ہے اور اس کے تہران اور واشنگٹن کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں جبکہ جاپانی وزیر اعظم نے بھی ایرانی اور امریکی حکام کیساتھ کئی بار ملاقاتیں کی ہیں۔


جاپان ٹائمز کا کہنا ہے کہ جاپانی وزیر اعظم "شنزو آبے" اور ایرانی صدر مملکت "حسن روحانی" کے درمیان 6 ملاقاتیں، دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں اضافہ کا باعث ہوگیا ہے جبکہ ایران اور جاپان کے درمیان ڈپلومیٹک تعلقات کی 90 ویں سالگرہ کے موقع پر شنزو آبے کا آئندہ دورہ ایران بھی اس دورہ کو مزید پر معنی بنائے گا۔


جاپانی اخبار نے کہا ہے کہ جاپان اور مشرق وسطی کے درمیان کبھی بھی کسی طرح کے مذہبی اور تاریخی کشیدگی نظر نہیں آئی ہے اور اسی وجہ ہے کہ ٹوکیو خطے میں حالیہ کشیدگی کو کم کرنے میں انتہائی اہم اور تعمیری کردار ادا کرسکتا ہے اور ایران اور امریکہ کے درمیان بخوبی ثالثی کا کردار ادا کرسکتا ہے۔


جاپان ٹائمز نے ایران اور جاپان کے درمیان اچھے تعلقات اور جاپانی وزیر اعظم اور ایران سپریم لیڈر کے درمیان آئندہ ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ توقع کی جاتی ہے کہ اس ملاقات میں ایران اور مغرب کے درمیان اختلافات کو حل کرنے کیلئے کوئی مطلوبہ راہ حل نکالا جائے گا۔


جاپانی اخبار نے کہا ہے کہ جاپان نے ہمیشہ امریکی دباؤ سے دور رہ کے مشرق وسطی کے معاملات کے حوالے سے مستقل موقف اپنانے کی کوشش کی ہے اور حتی کہ ناجائز صہیونی ریاست سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے اور ساتھ ساتھ مقبوضہ فلسطینی عوام کے جذبہ حریت پسندی اور انصاف پسندی کی حمایت کی ہے۔


جاپان ٹائمز کا کہنا ہے کہ  جاپان کو گولان ہائٹس اور مشرق وسطی کے حوالے سے امریکی صدر کی پالیسیوں سے دور رہنا اس بات کا باعث ہوگیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران، ٹوکیو کو تہران اور واشنگٹں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے میں قابل قبول سمجھے۔


واضح رہے کہ جاپانی حکومت نے یہ باضابطہ اعلان کیا ہے کہ وزیر اعظم "شنزو آبے" 12 جون کو اسلامی جمہوریہ ایران کا سرکاری دورہ کریں گے.


جاپان کی کیودو نیوز ایجنسی کے مطابق، گزشتہ چار دہائیوں میں کسی بھی جاپانی وزیراعظم کا یہ ایران کا پہلا دورہ ہوگا


سرکاری اعلان کے مطابق، جاپانی وزیراعظم کا دورہ 12 سے 14 جون تک ہوگا۔.


شنزو آبے نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ ایران اور آمریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کو ختم کرانے کیلئے دونوں ملکوں کو مذاکرات کی طرف راغب کریں گے۔


رپورٹس کے مطابق، ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد یہ جاپان کے کسی وزیر اعظم کا پہلا دورہ ہے. اس پہلے 1978 میں جاپان کے اس وقت کے وزیر اعظم "تاکئو فوکودا" نے تہران کا دورہ کیا تھا۔


شنزو آبے آئندہ دورہ ایران کے موقع پر قائد اسلامی انقلاب حضرت آیت اللہ خامنہ ای اور صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی سے الگ الگ ملاقاتیں کریں گے۔


**9467


ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 2 =