امام خمینی، دنیا کے مضبوط ترین انقلاب کے رہنما

تہران، 3 جون، ارنا – 21 ستمبر 1902 میں ایران کے علاقے خمین میں ایک مذہبی گھیرانے میں ایک ایسا بچہ دنیا میں آیا جس کے بارت میں شاید دنیا نہیں سوچ سکتی تھی کہ وہ مستقبل میں ایران میں ایک ایسا اسلامی انقلاب برپا کرے گا جہاں اڑھائی ہزار سال پرانی بادشاہت کا تختہ الٹ جائے گا.

کل بروز 4 جون، بانی عظیم اسلامی انقلاب ایران حضرت آیت اللہ العظمی سید روح اللہ الموسوی خمینی کی برسی ہے. آپ انقلاب کی فتح کے قریب 10 سال بعد اس دنیا سے رخصت ہوئے.
امام خمینی (رح) دنیا کے ایک ایسے مضبوط انقلاب کے منفرد رہنما ہیں جنہوں نے نہ صرف ایران میں قائم اڑھائی ہزار سال شہنشاہی حکومت کا خاتمہ کیا بلکہ ایران پر مغربی طاقتوں کی بالادستی بھی ختم کر ڈالا.
روح اللہ موسوی خمینی نے اپنے بچپن اور نوجوانی کے ایام خمین کے علاقے میں گزارے بعد میں وہ مذہبی تعلیم حاصل کرنے کے لئے قم آئے جو ایران میں اسلامی تعلیمات کا مرکز مانا جاتا ہے.
خمینی نوجوانی کے ایام سے ہی ایران میں بادشاہی نظام کے خلاف جد و جہد کرنے کے لئے پُرعزم تھے. سیاسی بصیرت اور انقلابی جذبے کی وجہ سے وہ شروع دن سے ہی محمد رضا پہلوی کی بادشاہت کے لئے خطرہ سمجھے گئے.


ایران کے بادشاہ محمد رضا پہلوی کی جانب سے امام خمینی اور عوام کے درمیان فرق پیدا کرنے کے لئے 1964 کو وہ اپنے گھر میں گرفتار اور اس کے بعد ایران سے جلاوطن اور ترکی میں چلے گئے.


امام خمینی (رح) نے ترکی میں بھی ایرانی بادشاہ کے خلاف اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھ دیا اسی لئے جلاوطنی کے دوران شاہی حکومت نے اس کے رویے کا جائزہ کرلیا.


آپ ترکی کی جلاوطنی کے 11 مہینوں کے بعد 1965 کو عراق چلے گئے اور تین سالوں کے بعد اس ملک میں بعث پارٹی کی حکومت قائم کی گئی جس کی وجہ سے امام خمینی (رح) کی مذہبی اور سیاسی سرگرمیوں کی حدود کا سامنا ہوگیا.





امام خمینی، عراق میں جلاوطنی کے دوران (1965-1978)


امام خمینی 13 سالوں کے بعد ایرانی بادشاہ اور صدام حسین کی حکومت کے بڑھتے ہوئے دباو کی وجہ سے عراق کو چھوڑنے پر مجبور کیے گئے تو 4 نومبر 1978 کو فرانس کے شہر پیرس تشریف لے گئے۔





1978 سے 1979 تک ایرانی کی واپسی اور اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے امام خمینی پیرس میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تهے.



جلاوطنی کے تمام سالوں کے دوران امام خمینی کے پیغامات ان کے دوستوں کے ذریعہ ایران میں اپنے مداحوں کو پیش کردئے گئے لہذا ایرانی عوام نے شاہی حکومت سے مقابلہ کرنے اور اسلامی حکومت کے قیام کے لئے بہت ہی کوششیں کی.


اب امام خمینی (رح) کی قیادت میں شاہی حکومت کے خلاف عوامی جد و جہد اتنی بڑھ گئی تھی کہ اسلامی انقلاب کی تشکیل اور شاہی حکومت کے خاتمے کا وقت آگیا تھا.


امام خمینى جب1  فرورى  1979ء كو سولہ سالہ جلا وطنى كے بعد وطن واپس آئے اور دس دنوں کے بعد 11 فروری 1979 کو 2500 سالہ سلطنتی حکومت کو شکست ہوئی اسلامی انقلاب کامیاب ہوگئی.





امام خمینى جب1  فرورى  1979ء كو سولہ سالہ جلا وطنى كے بعد وطن واپس آئے، اسلامی انقلاب کی کامیابی کے دس دن پہلے


امام خمینی (رح) اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر کے طور منتخب کئے گئے مگر اسلامی انقلاب کی کامیابی کے ایک سال بعد امریکہ اور بعض مغربی حکومتوں کی حمایت کے ساتھ عراق نے ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کردیا.


امام خمینی (رح) اس آٹھ سالہ تحمیلی جنگ کے دوران اسلامی انقلاب کے تحفظ کے لئے بہت ہی کوشش کرتے ہوئے ملکی اور غیرملکی سازشوں کو شکست دے دیا.


امام خمینی کی تحریک اور ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے اپنی منفرد اور مثالی خصوصیت اور سو فیصد ایرانی عوام کی حمایتوں کی وجہ سے پوری دنیا کو متأثر کیا اور دینی و اسلامی مبانی کے ساتھ سیاسی تحریکوں نے جنم لینا شروع کر دیا۔


بانی اسلامی انقلاب، اسلامی انقلاب کی کامیابی کی ایک دہائی اور آٹھ سالہ تحمیلی جنگ کے دوسالوں کے بعد 4 جون 1989 ، 87 سال کی عمر میں اس دنیا سے چل بسے.





امام خمینی کے جنازے میں تقریبا ایک کروڑ لوگوں نے متواتر تین روز تک شرکت کی.


ایرانی کیلنڈر میں امام خمینی کی برسی ایک سرکاری چھٹی ہے اور ہر سال ایران کے ہمسایہ اور دیگر ملکوں سے ہزاروں کی تعداد میں عوام رضاکارانہ طور پر بانی اسلامی انقلاب کی برسی میں شرکت کر رہے ہیں.


274*9393**


ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@



 

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 5 =