ایران کیساتھ دباؤ کے زیر اثر مذاکرات سے کچھ حاصل نہیں ہوگا: ظریف

نیو یارک، 3 جون، ارنا - ایرانی وزیر خارجہ نے ٹرمپ انتظامیہ کے ایران سے مذاکرات کرنے کے دعوے پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ بات واضح کی ہے کہ ایسے مذاکرات سے جس میں دباؤ کا حربہ استعمال کیا جائے، کچھ حاصل نہیں ہوگا.

محمد جواد ظریف نے امریکی نیوز چینل اے بی سی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے مزید کہا کہ دباؤ کے ذریعے ایران کے ساتھ مذاکرات کی باتیں شاید کاروباری معاملات میں فائدہ مند ثابت ہوں مگر ایران کے ساتھ کسے معاہدے تک پہنچنے میں یہ ناکام آپشن ہوگا.
ظریف کے کاروباری معاملات سے مُراد ڈونلڈ ٹرمپ ہے جس کی اصل تجارت پراپرٹی ڈیلنگ ہے اور اس کا ذکر 1987 میں شائع ہونے والی کتاب میں بھی کیا گیا ہے.
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دباو اور مذاکرات شاید دوسرے ممالک کے ساتھ قلیل مدت موثر ثابت ہو مگر ایران سے متعلق ایسا طریقہ غیرموثر ثابت ہوگا.
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ عزتمندانہ رویہ اپنانا ہی واحد طریقہ ہوگا جس کا مثبت اثر رہے گا.
ظریف نے یہ بات واضح کردی کہ ایران ٹرمپ کے دباؤ ڈالنے کے حربے میں نہیں آئے گا جو معاشی پابندیوں کے ذریعے جوہری مسئلے پر ایران کے ساتھ نئے معاہدے کرنے کی سوچ میں ہے.
انہوں نے ایک بار پھر امریکی پابندیوں کو معاشی دہشتگردی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان پابندیوں سے ایران میں عام آدمی کو نشانہ بنایا گیا ہے یقینا ٹرمپ ایسے حربوں سے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہیں گے.
ظریف نے امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو دھمکیاں دینے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا اور نہ ہی کبھی کسی ایرانی کو دھمکی دیں، عزت کرنے کا رویہ اپنائیں جو موثر ثابت ہوگا.
انہوں نے خطے میں ایرانی خطرات سے متعلق امریکی حکام کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خطے کو ایران سے کوئی خطرہ نہیں بلکہ یہاں امریکہ کی بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی بڑا خطرہ ہے.
محمد جواد ظریف نے مزید کہا کہ خلیج فارس ہمارے نزدیک ہے اور اپنا دفاع کرنا ہمارا حق ہے، آپ یہ سوچیں کہ اگر ہم امریکی ریاستوں کے ساحل کے قریب آئیں تو ان کا کیا ردعمل ہوگا اور وہ اس سے کیسے نمٹتے. یہاں تو امریکہ جوہری ہتھیار لے جانے والے بیڑے کو ہمارے ساحلوں کے قریب لایا ہے.
انہوں نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے ایرانی عوام کے خلاگ معاشی جنگ یا معاشی دہشتگردی کا مزید استعمال کیا تا اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے.
274**9393*
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 2 =