مکہ سمٹ؛ سعودیہ، ایران کیخلاف نئے محاذ کھولنے میں ناکام

تہران، 31 مئی، ارنا - سعودی عرب کی میزبانی میں مکہ مکرمہ میں گزشتہ دن سے بعض نشستوں کا انعقاد کیا گیا ہے جہاں شریک ممالک کے درمیان نہ صرف اختلافات سامنے آرہے ہیں بلکہ سعودی حکمران ایران کے خلاف نئے محاذ کھولنے میں بھی ناکام رہے ہیں.


ایران امریکہ کشیدگی کے تناظر میں سعودیوں نے عرب لیگ کے وزرائے خارجہ اور خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک کے اجلاس بلایا جبکہ آج اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے 14ویں اجلاس کا بھی مکہ میں منعقد ہوگا.
سعودی حکمرانوں کو یہ امید ہے کہ وہ او آئی سی اجلاس کے ذریعے دیگر ممالک کو ایران کے خلاف اپنے ساتھ کھڑا کرسکتے ہیں تاہم اس حوالے سے شریک ممالک کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں جیسا کہ عراقی صدر نے عرب لیگ کے ایران مخالف بیان کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے عرب حکمرانوں سے باقاعدہ احتجاج بھی کیا.
او آئی سی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں بھی سعودی وزیر خارجہ نے ایک بار پھر اس فورم کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران پر من گھڑت الزامات لگائے جس کا جواب ایرانی وفد کے سربراہ نے موثر انداز میں دیا.
رضا نجفی ایرانی دفترخارجہ کے بین الاقوامی امن و سلامتی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں جو مکہ سمٹ میں ایرانی وفد کی قیادت کررہے ہیں، انہوں نے سعودی وزیر خارجہ کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اسلامی ممالک فلسطین پر سنجیدگی دیکھائیں.
سعودی عرب عرب اور اسلامی نشستوں کو متنازعہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا اور آج نہ صرف خلیج فارس کے ممالک اور دیگر عرب ریاستوں میں اختلافات شدید ہوئے ہیں بلکہ سعودی حکمران اب اپنی بقا اور حکومت کو بچانے کے لئے مظلوم فلسطینوں کے خلاف امریکہ اور صہیونیوں کی ڈیل آف سنچری کی بھی حمایت میں آگے آگے ہے.
مختلف عرب اخبار اور جریدے بالخصوص العربی الجدید اور القدس العربی نے سعودی میزبانی میں ہونے والے حالیہ اجلاس پر سوالات اٹھائے اور کہا کہ مکہ سمٹ کے پیچھے ڈیل آف سنچری کی تشہیری مہم ہے.
عرب اخبارات کا خیال ہے کہ سعودی عرب میں متعدد نشستیں تو ہوئیں مگر سب بے فائدہ رہیں. ان رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ سعودی حکمران نے اپنی ساکھ کھو بیٹھے ہیں.
274**9393*
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 2 =