ایران میں جِلدی بیماری کے شکار بچے امریکی پابندیوں کا نشانہ

تہران، 28 مئی، ارنا – امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران میں جِلدی بیماری ایپڈر مولیزس بیلوسا کے شکار بچوں کے لئے مخصوص پٹی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے جس سے معصوم بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑگئی ہیں.

"ای بی، ایپڈر مولیزس بیلوسا " کی بیماری پیدائش سے جلد کی ایک قسم پروٹین کی پیداواری کی خرابی کا نتیجہ ہے جو مریض ایک سے زیادہ جلد کی پیچیدگیوں جیسے گہری زخموں، خون کے بہاؤ اور اسی طرح کا سامنا ہے.


عالمی دواساز کمپنیوں نے اس مریضوں کے درد کو کم کرنے اور اس بیماری کی علاج کے لئے بین الاقوامی اقدامات کئے ہیں.


سویڈش  "مولینلیکہ molnlyke" دواسازی کی کمپنی اس مریضوں کے درد کو کم کرنے کے لئے   mepilexکے نام سے مخصوص پٹی تیار کر رہی ہے.


اسلامی جمہوریہ ایران میں وزارت صحت نے اب تک سالانہ اس پٹی کو فراہم کرتے ہوئے مفت طور پر اس مریضوں کو پیش کردیا.


بد قسمتی سے گزشتہ سال سے امریکہ کی ظالمانہ پابندیوں کے آغاز کے ساتھ اس سویڈش کمپنی نے ایران کو اس پٹی کی فروخت کو روک کردیا ہے اور ابھی تک کوئی مناسب متبادل نہیں ملا.


یہ بات قابل ذکر ہے کہ تیتلی بچوں کا جسم اس قسم کی پٹی پر منحصر اور ان کی زندگی سنگین خطرے کا سامنا ہے.


امریکہ کی ایران مخالف پابندیوں کے آغاز سے اب تک ان مریضوں میں سے 300 افراد کی طبیعت خراب اور ان میں سے 7 مر چکے ہیں.


دریں اثنا امریکہ دعوی کرتا ہے کہ صحت کے شعبوں پر کوئی پابندیاں عائد نہیں کی گئی ہے اور انسانی حقوق کے دعوے کرنے والے یورپی ممالک بالخصوص سویڈن ایرانی تیتلی بچوں کی زندگی کے ساتھ کھیل رہے ہیں.


274*9393**


ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@


آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 11 =