فرانس کو ایرانی انجینئر کی امریکہ حوالگی پر جوابدہ ہونا ہوگا

تہران، 28 مئی، ارنا - فرانس کی عدالت نے عالمی قوانین کے برعکس ایک ایرانی انجینئر «جلال روح اللہ نژاد» کو امریکہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ سنادیا ہے جو فرانس میں عدلیہ کی آزادی اور سیاسی بالادستی پر ایک دھبہ ہے.

رپورٹ کے مطابق، فرانسیسی عدالت کے ایرانی انجینئر کو امریکہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ عالمی قوانین کے منافی ہے جس پر فرانس حکومت کو جواب دینا ہوگا.
یہ فرانس کی عدالت اور سیاسی آزادی پر صدر میکرون کی بے رحمی کی واضح علامت ہے جس کا ایک اور مقصد ایران کے خلاف سائنسی جنگ ہے.
ایرانی انجینئر کے وکیل نے اس حوالے سے فرانسیسی میڈیا کو بتایا ہے کہ ان کے موکل کی گرفتاری کے پیچھے سیاسی محرکات ہیں.
فرانس کا یہ فیصلہ سائنسی سرگرمیوں اور انسانی حقوق کے خلاف ایک اقدام ہے جبکہ تاریخ بھی اس بات کی گواہ ہے کہ امریکہ میں قیدیوں سے ناروا سلوک کیا جاتا ہے.
امریکی میڈیا کے مطابق، وہاں کی جیلوں میں سیاہ فام افراد سمیت لاکھوں افراد قید ہیں جن میں زیادہ تر کے جرم ثابت نہیں ہوئے مگر وہ جیلوں میں بدترین زدنگی گزارنے پر مجبور ہیں.
ایسا نظر آرہا ہے کہ فرانس ان اقدامات کے ذریعے اسلامی جمہوریہ ایران کو بلیک میل کرنا چاہتا ہے جبکہ فرانسیسی حکام نے کئی بار یہ زہر افشانی کی تھی کہ ایران جوہری معاہدہ ایک ناقض ڈیل ہے اور اس میں ایران کی میزائل سرگرمیوں کو بھی شامل کرنا ہوگا اور دوسری جانب فرانس نے اپنی غیرتعمیری پالیسی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے جوہری معاہدے سے متعلق ایران کی قومی سلامتی کونسل کے فیصلے کو بھی بلاجواز قرار دیا ہے.
اسلامی جمہوریہ ایران ہمیشہ کی طرح اپنی اصولی پالیسی کے تحت ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتا ہے اور اب بھی بلیک میلنگ میں نہ آئے گا اور نہ ہی فرانس کے سامنے جھکے گا تاہم اپنے شہریوں کی دنیا کے کسی بھی کونے میں آزادی کے لئے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرے گا.
فرانس کی قیادت نے ایرانی شہری کی غیرقانونی طور پر امریکہ کو حوالگی سے دنیا کو یہ بات ثابت کردی ہے کہ وہ سیاسی آزادی پر یقین نہیں رکھتے اور نہ وہاں کی عدالت آزاد اور خودمختار ادارہ ہے.
یقینا فرانسیسی حکام کا یہ دعویٰ ہوگا کہ انھوں نے عالمی امن کے لئے ایسے اقدامات اٹھائے ہیں مگر ہم انھیں یہ بات دہرانا چاہتے ہیں کہ دنیا میں لاکھوں خاندان بالخصوص ایران میں ایسے بھی خاندان ہیں جنہوں نے فرانس سے لائے جانے والے گندے خون کی وجہ سے اپنے پیاروں کو کھو دیا. بڑے بڑے دعوے کرنے والی پیرس حکومت کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ کئی سال گزرنے کے باوجود وہ کیوں ابھی تک ایران کو گندے خون دینے والے عناصر کو سزا نہیں دی گئی.
فرانس کس منہ سے عالمی امن و سلامتی کی حفاظت کرنے کا دعویٰ کرسکتا ہے جبکہ اس نے ایران سے متعلق آٹوموٹو اور ایوی ایشن صنعت میں تعاون کے لئے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا جو براہ راست عوام کی زندگی سے وابستہ ہے.
فرانسیسی حکمرانوں کے اس جیسے غیرانسانی اور نامعقول اقدامات کوئی غیرمعمولی بات نہیں کیونکہ وہاں کا سیاسی کنٹرول ایک ایسے نامعقول نوجوان رہنما کے زیر اثر ہے جس نے ڈونلڈ ٹرمپ کی پیروی میں ہر حد پار کی ہے اور یہ کہنا بری بات نہیں کہ آج کی فرانسیسی حکومت نے تاریخ میں امریکی تابعداری میں ریکارڈ قائم کیا ہے.
یاد رہے کہ حال ہی میں ایران کے ایک سائنسی امور کے پروفیسر ڈاکٹر مسعود سلیمانی جنہوں نے 8 مہینے پہلے سائنسی اور ریسرچ سرگرمیوں کے لئے امریکہ گئے تھے ان پر ایران سے متعلق امریکی پابندیوں کے خلاف ورزی کا جرم تھوپا گیا جس کے بعد انھیں گرفتار کیا گیا اور یہ بھی امریکی ناروا سلوک پر ایک مہر ہے.
274**9393*
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 5 =