ایران بھر میں آج حضرت علی (ع) کا یوم شہادت منایا جا رہا ہے

تہران، 27 مئی، ارنا- امیر المومنین حضرت علی (ع) کا غم دنیا بھر میں یوں منایا جا رہا ہے گویا آج ہی کی بات ہو۔

امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کا یوم شہادت دنیا کے اکثر ممالک میں آج انتہائی عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے، اس حوالے سے ایران اور پاکستان بھر میں مجالس برپا ہوگئی اور جلوس عزاداری نکالے گئے۔



 آج تاریخ انسانی کے عظیم سپہ سالار باب العلم اور داماد رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یوم شہادت ہے۔ فاتح خیبر حیدر کرار کو کوفہ کی مسجد میں نماز کی حالت میں شہید کردیا گیا تھا۔



حضرت علی (ع) سجده میں تھے کہ ابن ملجم نے آپ کے فرق مبارک پر تلوار کا وار کیا۔ آپ کے سر سے خون جاری ہوا آپ کی داڑھی اور محراب خون سے رنگین ہو گئی۔ اس حالت میں حضرت علی (ع) نے فرمایا: "فزت و رب الکعبه" کعبہ کے رب کی قسم میں کامیاب ہو گیا۔ پھر سوره طہ کی اس آیت کی تلاوت فرمائی، "ہم نے تم کو خاک سے پیدا کیا ہے اور اسی خاک میں واپس پلٹا دیں گے اور پھر اسی خاک تمہیں دوباره اٹھائیں گے"۔



دھاڑتے ہوئے شیر سے زیادہ شجیع، فصاحت ایسی کہ تمام زمانوں میں زندہ رہے، خطابت اور تیغ زنی میں وہ یکتا، فیصلوں میں نہایت عادل، گفتگو ایسی کے ہر بات میں علم وحکمت کے موتی جڑے ہوئے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ اپنے زمانے سے بھی بہت آگے تھے۔



جنگ بدر میں پیش پیش اور معرکہ احد میں بے جگری سے لڑے۔ خیبر کو فتح کرکے دنیا کو بتا دیا علی صرف ایک ہی ہے۔ وہ فلسفی تھے، وہ کمانڈر تھے۔ وہ دوستوں کے دوست اور دشمنوں کے لیے خوف کی علامت تھے۔



حضرت علی (ع) اپنی زندگی کے آخری لمحات میں بھی لوگوں کی اصلاح و سعادت کی طرف متوجہ تھے۔ انہوں نے اپنے بیٹوں، عزیزوں اور تمام مسلمانوں سے اس طرح وصیت فرمائی کہ میں تمہیں پرہیز گاری کی وصیت کرتا ہوں اور وصیت کرتا ہوں کہ تم اپنے تمام امور کو منظم کرو اور ہمیشه مسلمانوں کے درمیان اصلاح کی فکر کرتے رہو ۔ یتیموں کو فراموش نہ کرو۔ پڑوسیوں کے حقوق کی رعایت کرو۔ قرآن کو اپنا عملی نصاب قرار دو، نماز کی بہت زیادہ قدر کرو، کیوں  کہ یہ تمہارے دین کا ستون ہے۔



 آپ کے رحم و کرم اور مساوات پسندی کا عالم یہ تھا کہ جب آپ کے قاتل کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لایا گیا اور آپ نے دیکھا کہ اس کا چہرہ زرد ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں، تو آپ کو اس پر بھی رحم آ گیا۔



 آپ نے اپنے دونوں بیٹوں امام حسن علیہ السلام و امام حسین علیہ السلام کو ہدایت فرمائی کہ یہ ہمارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا، جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا، اگر میں صحت یاب ہو گیا تو مجھے اختیار ہے کہ چاہے اسے سزا دوں یا معاف کر دوں اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور آپ نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضربت لگانا کیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضربت لگائی ہے اور ہرگز اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ قطع نہ کرنا کیوں کہ یہ اسلامی  تعلیم کے خلاف ہے۔



حضرت علی علیہ السلام دو روز تک بستر بیماری پر کرب و بیچینی کے ساتھ کروٹیں بدلتے رہے۔ آخر کار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور ۲۱رمضان کو نمازِ صبح کے وقت آپ کی روح جسم سے پرواز کر گئی حضرت امام حسن و امام حسین علیہم السلام نے تجہیز و تکفین کے بعد آپ کے جسم اطہر کو نجف میں سپرد خاک کردیا۔



9467**



ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@




آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 5 =