امریکہ کا غیر قانونی رویہ دنیا کیلئے آزمائش کی گھڑی ہے: ایرانی سفیر

اسلام آباد، 20 مئی، ارنا - پاکستان میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور غیرقانونی رویہ عالمی برادری کے لئے آزمائش کی گھڑی ہے.

«مہدی ہنردوست» نے اپنے ایک مضمون جو مختلف پاکستانی انگریزی اور اردو اخبارات میں شائع ہوا ہے، میں مزید کہا ہے کہ اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر ترقی اور علاقایی خوشحالی کے لئے تعاون، اسلامی جمہوریہ ایران کی ترجیحات میں سرفہرست ہیں. جوہری ایندھن کی پیداوار پر مکمل دسترسی ایران کی وہ مایہ ناز کامیابی ہے جو کہ کسی غیر کے سامنے ہاتھ پہیلائے بغیر، ایرانی نوجوان اور سائنسدانوں کی صلاحیتوں سے حاصل ہوئی ہے. اس ٹیکنالوجی کو دوسروں کو دھمکانے اور ہتھیار بنانے کے لئے استعمال نہیں کیا گیا کیونکہ یہ بات اسلامی افکار سے ماخوذ نظریاتی اصولوں اور ایران کے سپریم لیڈر کے اجتماعی قتل عام کے ہتہیاروں کی حرمت کے خلاف ہے.
اس کے با وصف اسلامی جمہوریہ ایران نے خلوص نیت اور بین الاقوامی عرف عام کا احترام کرتے ہوئے سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعہ رضاکارانہ طور پر ایسا معاہدہ قبول کیا ہے جس کی رو سے جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال کو پابندیاں ہٹانے اور سیاسی معاشی دباؤ کو کم کرنے پر کم سے کم سطح پر لانا تھا. جوہری معاہدہ کئی ملکی، تفصیلی اور معتدل معاہدہ تھا جو کئی سالہ پیچیدہ سفارتکاری اور مذاکرات کے نتیجہ میں حاصل کیا گیا لیکن ایک سال پہلے امریکی صدر نے معاہدے کی قانونی اور سیاسی اہمیت کو نظر انداز کرتے ہوئے، یکطرفہ طور پر خود کو اس سے الگ کرلیا. یہ امریکی قدم بین الاقوامی برادری کی ان تمام امیدوں پر پانی پہیرنے کے مترادف تہا جو کہ مذاکرات، حکومتوں کا عالمی اختلافات کو مفاہمت اور پر امن سیاسی طریقہ سے حل کرنے کے نظریہ سے وابستہ تہیں. (اقوام متحدہ کے منشور کا چھٹا باب)
امریکہ کی ایک کئی ملکی بین الاقوامی معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی، جو کہ تقریبا دس سالہ مذاکرات کے نتیجہ میں ہوا تھا، ما سوائے عالمی سطح پر تسلیم شدہ عرفی اصولوں کی خلاف ورزی اور توہین کے دنیا میں خود مختار اقوام کے ذہنوں میں اور کیا تاثر پیدا کر سکتا ہے؟
ایران پر امریکہ کی پابندیوں اور دباؤ میں اضافے اور معاہدے کے دوسرے فریقوں کی طرف سے کئے گئے وعدوں کے عدم نفاذ کے بعد ایران کی طرف معاہدے پر نظر ثانی اور اس کے متعلق اپنی ذمہ داریوںکی ادایگی میں کمی کا فیصلہ ایک متفقہ قومی فیصلہ تھا جسے حکومت ایران نے اپنے سامنے پایا. یہ فیصلہ کسی ایک جماعت یا طبقہ کا فیصلہ نہیں تھا. جیسا کہ حکومت ایران نے بھرپور عوامی حمایت سے جوہری مذاکرات کا آغاز کیا اور مغربی فریقوں کی پابندیاں ختم کرنے کی ضمانت پر اپنی جوہری تنصیبات اور سرگرمیوں کا قابل لحاظ حصہ بند کر دیا. اسلامی جمہوریہ ایران نے معاہدہ پر دستخط کے بعد، معادہ اور آیی اے ای آی کے انسپکشن قوانین کے عین مطابق عمل کیا اور معاہدہ کی روح کے مطابق اس پر عمل پیرا ہو کر اسے ثابت کیا. ایران نے اپنی ذمہ داریوں میں ذرہ برابر کوتاہی نہیں کی لیکن امریکہ نے بین الاقوامی حقوق کو پایمال کیا اور یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے الگ ہوا بلکہ یک طرفہ طور پر غیر قانونی پابندیوں کا اعادہ کر کے اس بارے مذاکرات کے کسی قسم کے امکان کو بالکل ختم کر دیا ہے . امریکہ کے اس طرح کے برتاؤ کے خلاف عالمی برادری کی خاموشی سے آج یہ یک طرفہ رویہ ایک ایسے طریقہ کار میں تبدیل ہو رہا ہے جو کہ بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لئے بہت زیادہ خطرناک ہے.
امریکہ جوہری معاہدے کے خاتمہ اور سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2231 کی کھلی خلاف ورزی کے لئے انتھائی دباؤ کے طریقوں پر اصرار کرتا ہے. اگر یہ بدخواہی پالیسی اسی طرح جاری رہی تو خطہ اور اس سے بڑھ کر، کی سلامتی، امن اور استحکام کو نقصان پہنچائے گی. دنیا کے خود مختار ممالک کی اس طرح کے رویے پر خاموشی اور تصدیق یقینی طور پر انسانی معاشرہ کے اجتماعی نقصان کا باعث ہو گی، جو کہ پہلے سے کہیں زیادہ اس بات کا نیازمند ہے کہ خانہ جنگی، غذائی قلت، غربت، دہشتگردی، انتہا پسندی، مہاجرین کا بحران، شناخت کا بحران، ناخواندگی، نسل پرستی، اسلام فوبیا، معاشرتی فاصلوں، زندگی کے مسایل، عالمی ٹمپریچر، اسلحے کی دوڑ اور خطرناک عالمی جنگوں کے وقوع کے امکانات بڑے مسائل کے حل کے لئے ، پہلے سے زیادہ ہم آہنگی اور تعاون کیا جائے.
امریکی بحری بیڑے کی خلیج فارس میں موجودگی کوئی نئی بات نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے امریکہ جارحانہ حکمت عملی کے ساتھ دنیا کے اس کونے سے آکر اپنے بحری بیڑے کو خلیج فارس میں ٹھراتا ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کو دہمکاتا ہے. کیا ایران نے کبھی بھی امریکی سرحد کے قریب کوئی فوجی چھاؤنی قائم کی ہے؟ اب یہ سوال ہونا چاہئے کہ جنگ کا طبل کون بجا رہا ہے؟ کون کسے دہمکا رہا ہے؟ ایران کی سرحدوں کے آس پاس امریکی بی
س اور فوج کے ڈھیر لگے ہیں . کیا یہ واضح طور پر دخل اندازی اور بدمعاشی نہیں ہے؟
خلیج فارس بھی یقینی طور پر امن اور دوستی کی آغوش ہو سکتی ہے. اس کے اطراف میں بسنے والے خود مختار ممالک، علاقائی تعاون کے زیر سایہ خلیج فارس میں امن و امان کے قیام کی بھرپور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں.
اب دنیا کے خودمختار اور حریت پسند ممالک کی رائے عامہ کو بڑا سنجیدہ امتحان درپیش ہے. امریکہ کے یکطرفہ اور خطرناک رویہ کا عالمی برادری کیا جواب دیتی ہے. حتی اگر اس رویہ کا خاموشی کے سوا کوئی جواب بھی نہ دیا جائے، تب بھی اسلامی جمہوریہ ایران ہمیشہ کی طرح، اسلام کے نظریاتی اصولوں اور مالا مال ثقافت کے بل بوتے پر، مزاحمت کا راستہ ہی اپنائے گا اور عزت کے ساتھ ایران کی مایہ ناز تاریخ میں ایک اور باب کا اضافہ کرے گا.
274**9393* ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@