امریکہ نے ایرانی سائنسدان کو یرغمال بنا لیا

تہران، 19 مئی، ارنا – امریکہ میں مغوی ایرانی سائنسدان "مسعود سلیمانی" کے بھائی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ واشنگٹن کی حکومت نے میرا بھائی کو یرغمال بنا لیا ہے اور آٹھ مہینوں کے بعد عالمی انسانی حقوق کی برادری اور ذمہ دار ادارے اس کی رہائی کے لئے عملی اقدامات کریں.

یہ بات "رسول سلیمانی" نے اتوار کے روز ارنا نیوز ایجنسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ 22 اکتوبر 2018 کو مسعود ایک پروفیسر اور سٹیم سیل کے محقق کی حیثیت سے امریکہ روانہ ہوگیا مگر ویزا ملنے کے باوجود شکاگو کے ہوائی اڈے پر نامعلوم وجوہات کی بناء پر گرفتار اس کے بعد علاقے جورجیا میں آٹلانٹا "دیتون" جیل میں منتقل کیا گیا.
سلیمانی نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہے کہ امریکی حکومت نے میرا بھائی کو اغوا کرلیا ہے۔ ایک محقق ڈاکٹر جس نے معروف سائنسی شخصیت کے طور پر عالمی برادری میں بہت سے مضامین رکھتا ہے. اسے کیوں گرفتار کیا جانا چاہئے؟
انہوں نے کہا کہ مسعود نے سیاحت اور کام کے لئے امریکہ کا سفر نہیں کیا ہے بلکہ وہ صرف مطالعہ اور تحقیق کے لئے بیرون ملک چلا گیا ہے.
سلیمانی نے مسعود کی آی بی ایس بیماری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسعود کی بری صورتحال کی وجہ سے میری ماؤں کو ہیٹ اسٹروک اور جس کے نتیجے میں کوما کا شکار کیا گیا اور ابھی بھی ہسپتال میں ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ ہم عالمی انسانی حقوق کی برادری اور متعلقہ اداروں سے میرا بھائی کی رہائی کے لئے عملی اقدامات کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں.
9393**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@