تہران کی خوبصورتی کا نظارہ، بے حد خوشی

تہران، 18 مئی، ارنا – ایک پاکستانی جاپانی سیاح اور سفرنامہ نگار نے کہا ہے کہ ایرانی دارالحکومت تہران ایک بڑا، پیشرفتہ، صاف اور خوبصورت شہر ہے اور اس کی دلکش پہاڑوں کو نظارہ کرنے کی بے حد خوشی ہے.

یہ بات ایرانی دارالحکومت تہران پر آئے ہوئے پاکستانی سیاح "ناصر ناکاگاوا" نے ارنا نیوز ایجنسی کے ساتھ انٹرویو دیتے ہوئے کہی.
ناصر ناکاگاوا ایک پاکستانی سیاح اور سفرنامہ نگار ہیں جو گزشتہ سالوں سے جاپان میں زندگی گزارتے ہیں۔ انہوں نے مختلف ممالک کا دورہ کرتے ہوئے زیادہ پراثر اور دلچسپ انداز میں مختلف سفرنامہ لکھے ہیں.
انہوں نے پہلی بار کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کی سیر کی اور اس ملک کی خوبصورتی، سلامتی اور سیکورٹی، ان کے نئے سفرنامہ کے بنیادی موضوع ہوں گے.
تہران یورنیورسٹی کے شعبہ اردو کی جانب سے منگل کے روز ایک نشست منعقد کی گئی جس میں ناصر ناکاگوا نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی.
منعقد ہونے والی نشست میں شعبہ اردو کے اساتذہ اور طلباء کے علاوہ شعبہ جاپانی کے اساتذہ نے بھی شرکت کی.
ناصر ناکاگاوا نے اس نشست کے دوران سامعین کے لئے اپنے ایک مزاحیہ سفرنامہ کو پڑھتے ہوئے اپنی بعض کتابوں کو طلباء کو تحفہ دے دیا.
ناصر ناکاگاوا ایران کی پہلی بار سیر اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی ثقافتی تعلقات سے بہت خوش تھے. وہ ایران میں دلچسپی رکھتے ہیں اور ایرانی ثقافت سے محبت کر رہے ہیں اور شاید اسی وجہ سے اس کے دو بیٹوں میں سے ایک کا نام "شاہرخ" ایک ایرانی نام رکھا کیا گیا تھا.
ناصرناکاگاوا نے بہت شوق سے ارنا نیوز ایجنسی کے ساتھ انٹرویو دیا.

ارنا: پہلی بار کے لئے ایران کے دورے پر ہیں؟

ناصرناکاگاوا: جی ہاں، میں پہلی بار ایران میں آیا ہوں۔

ارنا: اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کے عوام کے درمیان بہت سے ثقافتی، مذہبی اور لسانی اشتراکات کی مبنی پر، ہمارے ملک کی سیر سے آپ کو کیا خیال ہے؟

ناکاگاوا: دونوں ممالک کے عوام مسلمان ہیں اور یہ سب سے بڑا مشترکہ ہے۔پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات لازوال ہیں۔ پاکستان اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے سب بڑا دوست ملک ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ مشرقی ثقافت قائم ہے بالخصوص حجاب، اسلامی روایات، خاندانی نظام اور خاندانی رسم و رواج، خاندانی بچوں کی اسلامی پرورش۔
اور سب سے بڑی ایک بات یہ ہے کہ سابق پاکستانی وزیر اعظم ذوالفقار علی بوٹو کی دوسری بیوی صاحبہ نصرت بوٹو ایرانی تھی. تو اسی طرح تعلقات دونوں ممالک کے درمیان بہت اچھے ہیں۔ میرا بچپن کراچی میں گزر چکا ہے اور اس شہر میں بہت ہی ایرانی ثقافت دیکھی جاتی ہے.

ارنا: آپ نے تہران اور ایران کے دوسرے شہروں کی خوبصورتی، سہولیات، شہری سہولیات، لوگوں کی ثقافت اور غیرہ کس طرح دیکھا؟

ناکاگاوا: میں نے ایران پہنچنے کے موقع پر سب سے پہلا ائیرپورٹ کے راستے میں بانی انقلاب حضرت امام خمینی (رح) کے روضے کا دورہ کیا اور اس مقدس مقام کی تصویروں کو اپنے پاکستانی دوستوں کے لئے بھیجا.
سب سے پہلی بار کے لئے تہران میں ہوں اور دوسرے شہروں کا دورہ کروں گا۔ کل میں شیراز جاؤں گا۔ لیکن تہران بہت ہی اچھا شہر ہے ان کے لوگ بہت ہی خوش لباس، خوش اخلاق، خوش گفتار ہیں اور شعبہ اردو کے اساتذہ نے انتہائی گرمجوشی سے میرا استقبال کیا.

ارنا: ایک عالمی سیاح کی حیثیت سے، آپ نے کئی ممالک کا دورہ کیا ہے اور آج ایران میں ہیں۔مختلف ممالک کے عوام کے لئے جنہوں نے اب تک ہمارے ملک کا سفر نہیں کیا، کیا پیغام دیتے ہیں؟ کیونکہ مغربی پڑوپیگینڈہ کی وجہ سے ان کے دماغ میں ایران کے خلاف ایک غیر حقیقی اور بری تصویر موجود ہے.

ناکاگاوا: میں ان لوگوں کو کہتا ہوں کہ اگر وہ ایران جائیں گے کسی ملک کی طرح اس ملک میں کوئی مسئلہ موجود نہیں۔ پاکستانی لوگ جانتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران اچھا ملک ہے مگر میں جاپانی سیاحوں کو پیغام دوں گا کہ ایک دفعہ ایران جائیں۔ یہ ملک بہت پرسکون ہے، اس ملک میں کوئی چوری اور کوئی مشکل موجود نہیں۔ میں تہران میں برفباری سے مالامال پہاڑوں کو بہت پسند کرتا ہوں.
میں جاپانی سیاحوں کو ضرور کہوں گا کہ ایرانی قوم جاپانی قوم کو بہت پسند کرتی ہے۔

ارنا: کیا آپ ایران کے دوسرے شہروں کی سیر کرنا چاہتے ہیں؟ بالخصوص سیاحتی اور مذہبی شہر سمیت اصفہان، شیراز اور مشہد مقدس؟

ناکاگاوا: میں ایران کے بعد ترکی کا دورہ کروں گا البتہ شیراز، اصفہان، مشہد مقدس اور مذہبی مقامات جانا چاہتا تھا مگر میرے پاس اتنا وقت موجود نہیں کہ ان تمام شہروں کی سیر کروں۔ صرف کل شیراز جاؤں گا وہاں تخت جمشید، نامور ایرانی شاعر حافظ اور سعدی کے مقبرے اور دوسرے روائتی اور سیاحتی مقامات کی سیر کروں گا.

ارنا: جس یونیورسٹی میں آپ حاضر ہیں یہاں ایرانی طلباء کے لئے اردو زبان کا کورس ہے۔ کیا آپ نے کبھی پتہ چلا ہے کہ اس ملک میں یہ زبان سکھائی جاتی ہے؟ ایران اور پاکستان کے دو ملکوں کو قریب آنے میں ایسی ثقافتی سرگرمیاں کیسے موثر ثابت ہوسکتی ہیں؟

ناکاگاوا: مجھے جاپان میں پہلی بار محترمہ ڈاکٹر وفا یزدانمنش کے ذریعہ معلوم ہوا کہ تہران یونیورسٹی میں شعبہ اردو قائم ہے جس پر بے حد خوش ہوں.
ایسی ثقافتی سرگرمیاں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات پر مثبت اثر پڑسکتی ہیں۔ فارسی اور اردو زبانوں پر دلچسبی رکھنے والے طلباء تہران، پنجاب اور کراچی یورنیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرسکتے ہیں.
274*9393**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@