امریکہ، شام سے نکل جائے: ایران کا مطالبہ

نیویارک، 18 مئی، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران نے اقوام متحدہ میں امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام میں اپنی غیرقانونی موجودگی کا خاتمہ کرے.

یہ بات 'تخت روانچی' نے جمعہ کےروز شامی علاقے ادلب سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک نشست میں گفتگو کرتے ہوئے کہی.

ایران کے مستقل مندوب نے کہا کہ امریکی فوج شام کے بعض حصوں پر قابض ہے لہذا اس کی غیرموجودگی کا خاتمہ ہونا چاہئے.

انہوں نے کہا کہ ایران، آستانہ میں پرامن مذاکرات کے بانی ممالک کی طرح 'ادلب' میں امن زون کے قیام کی حمایت کرے گا.

انہوں نے بتایا کہ شامی علاقے ادلب میں غیر فوجی شہریوں کی ایک بڑی تعداد رہتے ہیں جسے ہمیں حفاظت اور حمایت کرنی چاہیے.

ایرانی مندوب نے شام میں عالمی برادری کے کردار کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیوں عالمی برادری، ایسے دہشتگردی گروپوں کو نہتے شہریوں کی ایک بڑی تعداد کے یرغمال بنانے کی اجازت دیتا ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ شام میں امن زون کے قیام کا مقصد، غیر فوجی شہریوں کی حفاظت کے لیے ایک عارضی اقدام تھا نہ دہشتگردوں کیلئے ایک محفوظ پناہ گاہ کی تخلیق؛ اور یہ شامی حکومت کو دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لیے اپنے حق سے محروم نہیں کر سکتا ہے البتہ یہ بین الاقوامی انسان دوستانہ قوانین کے مطابق ہونا ہوگا.

تخت روانچی نے مزید کہا کہ لہذا، دہشت گردوں کو شکست دینے کے ساتھ ساتھ شہریوں کو آزاد کرنا بھی ضروری ہے.

انہوں نے کہا کہ فی الحال خطرناک دہشتگردوں کو شام میں 2 ملین سے زائد غیرفوجی شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرںے کی اجازت دی گئی ہے اور اس صورتحال کا تسلسل غیر فوجی شہریوں کے مزید قتل عام کا باعث بنے گا.

اقوام متحدہ میں ایرانی مندوب نے کہا کہ ہمیں ہوشیار رہنا چاہیے کہ نہتے شہریوں کی حمایت کے بجائے دہشتگروں کی پشت پناہی نہ کریں.

انہوں نے کہا کہ شامی مسئلہ کا حل فوجی نہیں اور ایران شامی عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت کر ے گا.

9410*274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@