تہران، 15 مئی، ارنا - پاکستان کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (NDU) کی خاتون لکچرار کا کہنا ہے کہ ایران اور پاکستان کی چابہار اور گوادر بندرگاہیں ایک دوسرے سے تعمیری تعاون کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں.

یہ بات این ڈی یو کے شعبہ امن و تنازعات اسٹڈیز کی ڈائریکٹر "ارشی سلیم ہاشمی" نے ایران کی علامہ طباطبائی میں پاکستان کے علاقائی اور معاشی تعلقات کے عنوان سے ورکشاپ میں گفتگو کرتے ہوئے کہی. انہوں نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کے دورہ ایران کے موقع پر بیانات کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا کہ چابہار اور گوادر سسٹر پورٹس کی حیثیت سے باہمی تعاون کو فروغ دے سکتی ہیں. انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان اپنی خارچہ پالیسی میں تبدیلی لائی ہے جس کی واضح مثال خطے میں سعودی عرب کی پالیسیوں کا ساتھ نہ دینا ہے۔ ارشی سلیم ہاشمی نے ایران اور پاکستان کے درمیان ثقافتی اور معاشی مشترکات پر زور دیا۔ انہوں نے ورکشاپ کے دوسرے حصے میں ایران اور پاکستان کے درمیان معاشی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادی تعاون تنظیم (ایکو) کے طاقتور رکن ممالک کے درمیان کمپٹیشن، اس تنظیم کی عدم کامیابی کا باعث بن گیا ہے۔ واضح رہے کہ اقتصادی تعاون تنظیم (Economic Cooperation Organization) ایک علاقائی معاشی تنظیم ہے جو 10 ممالک بشمول ایران، پاکستان، ترکی، افغانستان، قفقاز، تاجیکستان، کرغیزستان، ازبکستان، قازقستان، تاجیسکتان اور آذربائیجان اس کے اراکین ہیں۔ یہ تنظیم رکن ممالک کے درمیان میں تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع ترتیب دے کر انہیں ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے۔ 9467**274** ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@