ٹیم بی کا آدھا حصہ، ایران کیخلاف عراقی جنگ کا شراکت دار تھا: ظریف

تہران، 14 مئی، ارنا. اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ٹیم بی کا آدھا حصہ ایران کیخلاف عراق کی مسلط کردہ تباہ کن جنگ کا شراکت دار تھا۔

"محمد جواد ظریف" نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں جوہری معاہدے کی امریکی علیحدگی سے متعلق "بولٹن" کے آرٹیکل اور 2002ء میں امریکی کانگرس میں عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی کے ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے نیتن یاہو کی گواہی سے متعلق دستاویزات کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم بی کا آدھا حصہ، ایران کیخلاف عراقی جنگ کا شراکت دار تھا۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ میں نے آوریل میہنے کے دوران، اپنے چند انٹرویوز میں حادثوں کی پیشین گوئی کی لیکن اس کی وجہ یہ نہیں کہ میں بہت ذہین ہوں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹیم بھی بے شرمی سے، امریکی مشیر قومی سلامتی جان بولٹن کی منصوبہ بندیوں کی پیروی کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ویسے ٹیم بھی کا آدھا حصہ ایران کیخلاف عراق کی مسلط کردہ تباہ کن جنگ کا شراکت دار تھا، واضح یاد دہانی!
یاد رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ منگل کے روز اپنے ایک اور ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ وہ جواس حساس خطے میں رہتے ہیں ان کے حقیقی مفادات، امن، استحکام اور تعاون کے فروغ سے منسلک ہیں۔
ظریف نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اب بھی سب سے زیادہ قابل بھروسہ، مؤثر، مستحکم اور محفوظ پارٹنر ہے۔
9467**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@