خلیج فارس میں امریکی فورسز کی تعیناتی کا فیصلہ، نفسیاتی جنگ ہے: ایران

نیو یارک، 14 مئی، ارنا- اقوام متحدہ میں تعینات ایران کے مستقل مندوب نے متحدہ عرب امارات کی "الفجیرہ" بندرگاہ میں تیل بردار بحری جہازوں کے حالیہ حادثے کی وجوہات کے تعین کیلئے تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خلیج فارس میں امریکی فورسز کی تعیناتی کا فیصلہ، نفسیاتی جنگ ہے۔

یہ بات "مجید تخت روانچی" نے امریکی نیوز چینل سی این این کیساتھ انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔
اس موقع پر یہ سوال اٹھایا گیا کہ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، بعض امریکی حساس اداروں کا شبہ ہے کہ متحدہ عرب امارات کے تیل بردار بحری جہازوں اور سعودی عرب میں تیل تنصیبات اور پائب لائنوں پر حالیہ دہشت گردانہ حملوں کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے، کیا اسلامی جمہوریہ ایران ان حملوں میں کردار ادا کیا تھا؟
اس موقع پر تخت روانچی نے ان حادثوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، ہونے والے واقعات کی وجوہات کو تعین کرنے کیلئے ٹھوس تحقیقات کا خواہاں ہے کیونکہ یہ حادثے خلیج فارس میں ٹرانزٹ عمل کے امن و سلامتی کو خطرے کا شکار کیا ہے جو ایران کیلئے انتہائی اہم اور حیاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ دعوی ٹیم بھی بشمول نیتن یاہو( بی بی)، بن سلمان اور بن زائد کی طرف سے اٹھایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ افرد من گھرٹ اور جھوٹ دعوی دے کر ان حادثے کے اصل وجوہات کو چھپانا چاہتے ہیں تا کہ علاقے اور ہمار ے اردگرد کو خطرے میں ڈال کر علاقے کو تنازع کا شکار کریں۔
اقوام متحدہ میں تعینات ایران کے مستقل مندوب نے کہا کہ نہ اسلامی جمہوریہ ایران اور نہ ان کے پراکسیز کو ان حادثات میں کوئی کردار ہے اور ہمیں ان طرح کے مسائل سے کوئی سر و کار نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان حادثات کی وجوہات کو تعین کرنے کیلئے تحقیقات کی ضرورت ہے تا کہ ان کے ذمہ دار عناصر کی شناخت ہوجائے۔
تخت روانچی نے "امریکہ نے طیارے بردار بحری بیڑے کو خلیج فارس میں تعینات کرلیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام ایران کیجانب سے امریکی مفادات کو خطرے میں ڈالنے کی وجہ سے ہوا ہے" کے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ معلومات بالکل من گھرٹ اور جھوت پر مبنی ہیں جو واشنگٹن اور خطے میں بعض عناصر کی جانب سے اٹھایا گیا ہے۔
انہوں نے ایران اور ان کے پراکسیز کیجانب سے لبنان اور عراق میں امریکی فوجیوں پر حملے کی منصوبہ بندی کے سوال کے جواب میں کہا ہے کہ ہمارے عراق کیساتھ اچھے تعلقات ہیں اور ہم کبھی عراق کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہیں کریں گے۔عراق ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے۔
اس موقع پر سی این این اینکر نے کہا کہ امریکی وزارت دفاع نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر ایران امریکی مفادات کو نشانہ بنائے تو امریکہ 120 ہزار فوجیوں کو خیلج فارس میں تعینات کرے گا۔ اس حوالے سے ایران کا موقف کیا ہے؟
تخت روانچی نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ یہ اقدام ایران کیخلاف نفسیاتی جنگ ہے۔ ایران کے مفادات میں نہیں ہے کہ علاقے کو تنازعات کا شکار کرے اور خطے میں کشیدگی پیدا کرے کیونکہ نہ صرف ایران بلکہ کسی بھی کو اس طرح کے اقدامات سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔
انہوں نے " ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران کچھ کرے تو وہ غلط ہے اس بات کا مطلب کیا ہے؟ " کے سوال کے جواب میں کہا کہ میں حوالے سے لاعلم ہوں، ٹرمپ سے پوچھنا چاہیے۔ ویسے ایران کے ہمسایہ ممالک کیساتھ تعمیری تعلقات ہیں۔
تخت روانچی نے کہا کہ ایران خلیج فارس میں ہے خلیج میکسیکو میں نہیں ہے جاکے ان لوگوں سے سوال کریں جو ہزاروں میل کے فاصلے سے ہمارے علاقے میں آئے ہیں۔ ہم خلیج فارس میں ہیں اور اپنے مفادات سمیت خلیج فارس کے امن و سلامتی کا دفاع کرتے ہیں۔
9467**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@