پاک ایران گیس منصوبہ، ایرانی وفد پاکستان کا دورہ کرے گا

اسلام آباد، 13 مئی، ارنا- پاکستان کے انٹر اسٹیٹ گیس سسٹمز کے مینیجنگ ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ رواں مہینے میں ایک ایرانی وفد پاک ایران گیس منصوبے کو جائزہ لینے کیلئے پاکستان کا دورہ کرے گا۔

"مبین صولت" کا پاکستان کے نیوز چینل دنیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ پاک ایران گیس پائپ منصوبے پر ایرانی وفد جلد پاکستان کا دورہ کرے گا۔ مذاکرات دونوں ممالک کی متعلقہ کمپنیوں کےحکام کے درمیان ہوں گے۔
انہوں نے کہا ہے پاکستان نے منصوبے پر دستخط کر رکھے ہیں، چاہتے ہیں منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچے، تاہم منصوبے کی راہ میں درپیش چیلنجز کو مل کر حل کرنا ہوگا۔
مبین صولت کا کہنا تھا کہ ایرانی وفد عید سے قبل پاکستان کا دورہ کرے گا، تاہم حتمی تاریخ کا تعین ایران کی جانب سے جواب موصول ہونے پر کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران سے تکنیکی سطح پر منصوبے کے حوالے سے بات چیت کی جائے گی۔ جب بھی وے فارورڈ نکال سکے تو نکالیں گے۔
واضح رہے گہ گزشتہ دنوں میں گیس پائپ لائن منصوبے سے متعلق پاکستانی وزارت پیٹرولیم نے ایران کو خط کا جواب بھجوا دیا جس میں کہا گیا کہ پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل کرنے کا پابند ہے تاہم ایران پرعالمی پابندیاں ختم ہونے پرمنصوبہ مکمل کرلیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے نوٹس پر غور کے لیے پاکستان کے وزیراعظم "عمران خان" کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں وزیر اعظم پاکستان نے ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کے حوالے سے ضروری احکامات جاری کیے.
انہوں نے اقوام متحدہ، امریکا، یورپین کونسل سمیت دیگر فورمز کو قانونی یادداشت بھیجنے کی ہدایت کی۔
عمران خان کا کہنا ہے کہ ایران پرعالمی پابندیاں منصوبے پرذمہ داریاں پوری کرنے میں رکاوٹ ہیں اس سلسلے میں انہوں نے ہدایت کی ہے کہ ایران کے ساتھ آئی پی گیس منصوبے کیلئے مفاہمتی طریقہ اختیار جائے اور مل کر منصوبے پر عمل درآمد کے امکانات تلاش کئے جائیں۔
اضح رہے ایران نے 28 فروری 2019 کو گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل کرنے کے لئے اسلام آباد نوٹس بھجوایا تھا جس میں کہا گیا کہ اگر پاکستان پائپ لائن مکمل نہیں کرتا تو عالمی عدالت انصاف جائیں گے۔
9467**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@