ایران جوہری معاہدہ، یورپ کی اہم ترجیح ہے : آسٹریا

تہران، 13 مئی، ارنا- آسٹریا کی وزیر خارجہ نے ایران جوہری معاہدے کو یورپ کی اہم ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک اسلامی جمہوریہ ایران اس معاہدے پر قائم رہے تب یہ معاہدہ قابل اعتبار ہے۔

یہ بات " کارین کنایسل" نے پیر کے روز بروسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے پہلے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے ایران جوہری معاہدی کے سارے اراکین کو اس بین الاقوامی معاہدے کے تحفظ اور اپنے کیے گئے وعدوں پر عمل کرنے کی دعوت دی۔
آسٹریا کی وزیر خارجہ نے ایران جوہری معاہدے کے سارے رکن ممالک کو صبر و تحمل کے مظاہرہ کی دعوت دی۔
انہوں نے ایران جوہری معاہدے سے متعلق بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی رپورٹس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس بین الاقوامی معاہدے سے اپنے کیے گئے وعدوں پر عمل کیا ہے لہذا ہمیں ابتدائی خبروں کے بجائے حقائق پر مبنی دستاویزات کے مطابق اقدامات اٹھانا چاہیے۔
انہوں نے ایک نئے معاہدے طے پانے کو ایک نامناسب حل قرار دیتے ہوئے کہا کہ تنقیدوں کے باوجود ہم ایران جوہری معاہدے سے دستبردار نہیں ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ معاہدہ ایک اہم کامیاب سفارتکاری ہے۔
واضح رہے کہ ایران جوہری معاہدے سے متعلق یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کا اجلاس آج بروز پیر بروسلز میں منعقد کیا جاتا ہے جس میں امریکی وزیر خارجہ "مائیک پمپیو" بھی شرکت کریں گے۔
یاد رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکہ کی جوہری معاہدے سے غیرقانونی علیحدگی کے جواب میں ہیوی واٹر اور افزودہ یورونیم کی فروخت کو 60 دن کے لئے روکنے کا باضابطہ اعلان کردیا ہے.
صدر مملکت حسن روحانی نے گزشتہ دنوں اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکی خلاف ورزی کے جواب میں یہ ایران کا پہلا جوابی فیصلہ ہے.
انہوں نے جوہری معاہدے کے فریقین کو خبردار کیا کہ اگر وہ ایرانی کیس کو ایک بار پھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجیں تو اس کا بھی ایران بھرپور جواب دے گا جس کی نوعیت کے بارے میں جوہری معاہدے کے فریقین کو دئے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے.
9467**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@