جرمنی، ایران کیساتھ  باہمی مالی میکنزم کے قیام کا خواہاں ہے

تہران، 13 مئی، ارنا- جرمن حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران کیساتھ قانونی لین دین کیلئے ایک مالی میکنزم کے قیام کا بند و بست کر رہا ہے۔

"اشتفان زایبرت" نے برلن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران مزید کہا کہ جرمنی اور ان کے یورپی اتحادی، ایران کیساتھ قانونی لین دین کیلئے ایک موثر مالی میکنزم کے قیام کے خواہاں ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے اپنے مختصر دورہ روس کے بعد آج بروز پیر یورپی یونین کے وزارئے خارجہ کیساتھ ایران سے متعلق مذاکرات کیلئے بروسلز روانہ ہوگئے اور کل بھی سوچی میں روس کے اعلی حکم کیساتھ مذاکرات کریں گے۔
متحدہ عرب امارات کے نیشنل اخبار کے مطابق، جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ، آج یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کیساتھ جوہری معاہدے سے متعلق ایران کے حالیہ فیصلے کے بارے میں بات چیت کریں گے۔
یاد رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکہ کی جوہری معاہدے سے غیرقانونی علیحدگی کے جواب میں ہیوی واٹر اور افزودہ یورونیم کی فروخت کو 60 دن کے لئے روکنے کا باضابطہ اعلان کردیا ہے.
صدر مملکت حسن روحانی نے گزشتہ دنوں اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکی خلاف ورزی کے جواب میں یہ ایران کا پہلا جوابی فیصلہ ہے.
انہوں نے جوہری معاہدے کے فریقین کو خبردار کیا کہ اگر وہ ایرانی کیس کو ایک بار پھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجیں تو اس کا بھی ایران بھرپور جواب دے گا جس کی نوعیت کے بارے میں جوہری معاہدے کے فریقین کو دئے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے.
9467**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@