ظریف کا ٹرمپ کیجانب سے ایران سے مذاکرات کی پیشکش پر رد عمل

تہران، 12 مئی، ارنا- ایرانی وزیر خارجہ نے ایران کیخلاف ٹیم بی کی منصوبہ بندیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران سے متعلق بولٹن کے منصوبے میں من گھرٹ معلومات، پائیدار جنگ اور حتی کہ مذاکرات کی کھوکھلی پیشکش موجود تھے اور واحد فرق یہ تھا کہ اس میں ٹیلی فون نمبر موجود نہیں تھا۔

"محمد جواد ظریف" نے ایک ٹوئٹر پیغام میں جوہری معاہدے سے متعلق امریکی علیحدگی کے حوالے سے امریکی قومی سلامتی مشیر "جان بولٹن" کے منصوبے کو اٹیچ کیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: مسٹر ٹرمپ! بولٹن نے آپ کی انتظامیہ میں شامل ہونے سے قبل ٹیم بی کیساتھ ایران کیخلاف اسی منصوبے کو پیش کیا تھا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اس منصوبے میں من گھرٹ معلومات، پائیدار جنگ اور حتی کہ مذاکرات کی کھوکھلی پیشکش موجود تھے اور واحد فرق یہ تھا کہ اس میں ٹیلی فون نمبر موجود نہیں تھا۔
واضح رہے کہ جان بولٹن نے امریکہ میں قومی مشیر کے عہدے سنبھالنے سے قبل بارہا ایران کیخلاف فوجی کاروائی اور ایرانی آئین اور نظام حکومت میں تبدیلی لانے پر زور دیا تھا اور ساتھ ساتھ ایران جوہری معاہدے سے متعلق کیے گئے مذاکرات کی شدید تنقید کی تھی۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر نےگزشتہ ہفتے کے دوران ایران کیساتھ مذاکرات کرنے پر دلچسبی کا اظہار کیا تھا۔
اس کے علاوہ امریکی نیوز چینل سی این این نے کہا ہے کہ امریکی وائٹ ہاوس نے ایران میں تعینات سوئٹزلینڈ (ایران اور امریکہ کے مفادات کے تحفظ کا ذمہ دار) کے سفارتخانے کو ایران کیساتھ مذاکرت کیلئے ایک ٹیلی فون نمبر دے دیا ہے۔
9467**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@