4+1 ممالک کے وعدوں پر عملدرآمد کرنے کی ضرورت ہے: ایران

تہران، 11مئی، ارنا – نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے سیاسی امور نے جوہری معاہدے کے باقی پانچ رکن ممالک کے وعدوں کی پابندی پر زور دیا اور کہا ہے کہ یورپ آئندہ 60 دنوں کے دوران تیل اور بینکاری کے شعبے میں اپنے عملی اقدامات کو اپنائے.

یہ بات "سید عباس عراقچی" نے گزشتہ روز ایران کے دورے پر آئے ہوئے اپنے برطانوی ہم منصب 'ریچڑد مور' کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی.
اس موقع پر انہوں نے امریکہ کی جانب سے ایران جوہری معاہدے کی علیحدگی کے بعد باقی پانچ ممالک کے وعدوں پر عملدرآمدنے کرنے کی ضرورت پر زور دیا.
عراقچی نے کہا کہ یورپ کو اسلامی جمہوریہ ایران کے حالیہ فیصلے کو نظر انداز نہیں رکھنا چاہئیے۔ ہم نے اپنی دیانتداری کا ثابت کردیا مگر یورپ نے پیش آنے والے مواقع سے استعمال نہیں کیا.
مور نے جوہری معاہدے کے تسلسل اور انسٹیکس میکنزم کے اجراء پر زور دیا اور کہا کہ برطانیہ ایرانی مطالبات کو پورا کرنے کے لئے بھرپور کوشش کر رہا ہے.
یاد رہے کہ برطانیہ کے نائب وزیر خارجہ'ریچڑد مور' نے ایران جوہری معاہدے کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایران کا دورہ کیا۔
یہ ایک روزہ دورہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ ایرانی صدر نے 8مئی کو امریکہ کی جوہری معاہدے سے غیرقانونی علیحدگی کے جواب میں ہیوی واٹر اور افزودہ یورونیم کی فروخت کو 60 دن کے لئے روکنے کا باضابطہ اعلان کردیا ہے.
صدر روحانی نے فیصلہ کیا کہ ایران 8 مئی سے جوہری معاہدے کے بعض احکامات پر عمل نہیں کرے گا اور اس معاہدے کے فریقین کو بھی 60 دن کا الٹی میٹم دیا ہے تا کہ وہ تیل اور بینکاری شعبوں کے علاوہ دیگر امور سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل کریں.
274*9393**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@