نیو یارک، 10 مئی، ارنا – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنہوں نے ایرانی عوام پر بدترین پابندیاں عائد کی ہیں، ایک بار پھر ایرانی حکام سے نام نہاد مذاکرات کی حامی بھرلی.

ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشرق وسطی میں امریکی جنگی بحری بیڑا ابراہم لنکن کو بھیجنے کی وجہ بتانے سے گریز کیا. انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ ہماری پاس کچھ ایسی اطلاعات ہیں جو آپ کے پاس نہیں، یہ اطلاعات دھمکی آمیز ہیں لہذا ہمیں اپنی اور دوسرے علاقوں کی سلامتی کو برقرار رکھنا پڑے گا. یاد رہے کہ امریکہ کے مشیر قومی سلامتی جان بولٹن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکہ اپنا ابراہم لنکن نامی جنگی بحری بیڑا خطے میں تعینات کر رہا ہے تا کہ ایران کو واضح پیغام بھیجا جاسکے. ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ خطے میں امریکی فورسز کے خلاف کسی بھی جھڑپ کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا مگر میں امید کرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو. امریکی صدر جو پہلے بھی ایران سے مذاکرات کرنے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا تھا، نے ایک بار پھر کہا کہ ایرانی حکمرانوں کو مجھ سے رابطہ کرنا ہوگا پھر ہم مل بیٹھ کر بات چیت کرسکتے ہیں. ہم کوئی نیا معاہدہ کرسکتے ہیں جو منصفانہ ہو، ہم نہیں چاہتے کہ وہ جوہری ہتھیاروں تک رسائی حاصل کرے. انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ سابق امریکی وزیر خارجہ جان کری کے ایرانیوں کے ساتھ مذاکرات لوگان ایکٹ کی خلاف وزری ہے لہذا ان کے خلاف قانونی کاروائی کرنی ہوگی. امریکہ میں لوگان ایکٹ ایک ریاستی قانون ہے جس کے تحت حکومت سے لاتعق افراد ان ملکوں سے بات چیت نہیں کرسکتے جو امریکہ کے دشمن ہوں، ایسی کسی بھی گفتگو سے پہلے حکومت سے اجازت لینی پڑے گی. 9410٭274٭٭ ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@