روس کو ایران کا طویل المدت شراکت دار سمجھتے ہیں: ظریف

ماسکو، 8مئی، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے اپنے روسی ہم منصب کیساتھ ایک ملاقات میں روس کو ایران کا طویل المدت شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسی تناظر میں ذاتی طور پر ایرانی صدر کے خط کو ان کے روسی ہم منصب تک پہنچانے کے لئے ماسکو آیا ہوں.

رپورٹ کے مطابق، "محمد جواد ظریف" نے، بدھ کے روز اپنے روسی ہم منصب "سرگئی لاوروف" کیساتھ ایک ملاقات میں روسی وزیر خارجہ کیساتھ اپنی بیسیویں ملاقات سے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے روس میں حالیہ مسافربردار طیارے کے حادثے پر ان کیساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔
انہوں نے روس کیجانب سے ایران میں سیلاب متاثرین کی امداد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مئی میہنے کے موقع پر روس میں "فتح کا جشن" پر روسی وزیر خارجہ کو مبارکباد دی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ گزشتہ سال ٹھیک اسی دن ( 8 مئی) کو امریکہ نے ایران جوہری معاہدے سی علیحدہ ہوکر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2231 کی خلاف وزری کی اور حتی کہ دوسروں کو بھی اس قرارداد پر قائم ہونے سے روک دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے روس اور جوہری معاہدے کے دوسری رکن ممالک کی درخواست سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کے نقطہ نظر سے گروپ 4+1 ایک مجموعہ ہے اور اسی وجہ سے ہم نے سارے اراکین کو ایک ہی مشترکہ خط لکھا ہے لیکن اس بات کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم سارے فریقین کو ایک ہی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
ظریف نے مزید کہا ہے کہ ایران، چین اور بالخصوص روس کو اپنے طویل المدت شراکت دار سمجھتا ہے جن کیساتھ ہمارے تعلقات کی نوعیت بھی مختلف ہے اسی تناظر میں ذاتی طور پر ایرانی صدر کے خط کو ان کے روسی ہم منصب تک پہنچانے کے لئے ماسکو آیا ہوں.
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے ایک سال کےلئے صبر و تحمل کا مظاہر کیا اور دوست ممالک چین اور روس کے اسی عرصے کے دوران ہمارے ساتھ تعمیری تعلقات تھے تاہم بعض اوقات ہم ان سے کچھ اور اقدامات اٹھانے کی توقع رکھتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ روس نے ایران کیساتھ تعمیری تعلقات برقرار کیے لیکن جوہری معاہدے کے دوسرے رکن ممالک نے اپنے کیے گئے وعدوں پر عمل نہیں کیا اور انہوں نے صرف اچھا بیان جاری کردیا لیکن اس پر عمل نہیں کیا اور اسی لئے امریکہ نے ایران کیخلاف نئی پابندیاں لگانے کیساتھ جوہری معاہدے کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹیں ڈال دیا۔
ظریف نے مزید کہا کہ ایران کا حالیہ فیصلہ بھی بالکل جوہری معاہدے کے اصولوں کے مطابق ہے اور اس معاہدے سے نکنے کے مترادف نہیں ہے۔
اس موقع پر روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم ایرانی صبر و تحمل کا بہت بڑا احترام کرتے ہیں، ہم نے ایرانی صدر کے خط کو وصول کیا ہے اور آج کی ملاقات بھی اس خط کے بارے میں مذاکرات کا ایک بہت اچھا موقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ روس، ایران کی جانب سے سلامتی کونسل کے اصولوں اور جوہری معاہدے سے متعلق اپنے کیے گئے وعدوں پر عمل کرنے کی قدر کرتا ہے۔

274**9467**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@