یورونیم کی افزودگی کی سطح کو تین سو کلوگرام تک رکھنے کا پابند نہیں: ایران

تہران، 8مئی، ارنا – اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا ہے کہ وہ آج کے بعد ملکی جوہری سرگرمیوں کے تناظر میں یورونیم کی افزودگی کی مقدار کو تین سو کلوگرام تک رکھنے کا پابند نہیں ہے.

یہ بات قومی ادارہ برائے جوہری توانائی کے سربراہ علی اکبر صالحی نے بدھ کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی.
انہوں نے مزید کہا کہ ہم یورونیم کی 3.6 فیصد افزودگی کو تین سو کلوگرام تک رکھنے کے نہ پابند ہیں اور نہ ہی ہیوی واٹر کی سطح کو 130 ٹن تک رکھنے کی کوئی حد مقرر ہے.
ڈاکٹر صالحی نے کہا کہ جوہری معاہدے سے ایران کے کئے گئے وعدوں میں کمی لانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران جوہری معاہدے کی شقوں نمبر 26 اور 36 کے مطابق دوسرے فریقین کی بد عہدی کی صورت میں مجموعی اور جزوی طور پر اپنے وعدوں پر عمل نہیں کر سکتا ہے.
انہوں نے کہا کہ حقیقت میں صدر روحانی کا آج پیغام یہ تھا کہ ہم اس60 دنوں کے دوران میں یورنیم کی افزودگی کو مذکورہ مقدار تک رکھنے کے پابند رہنے پر مجبور نہیں ہیں.
صالحی نے مزید بتایا کہ اگر مذکورہ مدت میں دوسرے فریقین جوہری معاہدے کے تحت ایرانی مفادات کو فراہم کرے تو ایران بھی اپنی پہلی پوزیشن پر واپس چلے جائے گا دوسری صورت میں اگلے مرحلوں میں اپنے دیگر وعدوں پر عمل نہ کرنے کا فیصلہ کرے گا.
یاد رہے ایرانی صدر نے آج کی صبح امریکہ کی جوہری معاہدے سے غیرقانونی علیحدگی کے جواب میں ہیوی واٹر اور افزودہ یورونیم کی فروخت کو 60 دن کے لئے روکنے کا باضابطہ اعلان کردیا .
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایران جوہری معاہدے سے امریکہ کی یکطرفہ علیحدگی کے ایک سال مکمل ہونے کے بعد بھی عالمی جوہری توانائی ادارہ اپنی 14 رپورٹس میں اس معاہدے سے متعلق اسلامی جمہوریہ ایران کی شفاف کارکردگی کی تصدیق کرچکا ہے.
تاہم اعلی ایرانی سفارتکار اور جوہری مذاکرات کار سید عباس عراقچی نے یہ خبردار کیا ہے کہ ایران کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے والا ہے، امریکی رویے سے جوہری معاہدہ خطرے میں پڑ گیا ہے اور آئے روز اس کے خاتمے کے امکانات بڑھنے لگے ہیں.
اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ امن پسندی اور خطے اور دنیا میں سلامتی و استحکام ملکی پالیسی کا ایک اہم جز ہے.
خطے میں امریکہ اور بعض عرب ممالک کے حمایت یافتہ دہشتگردوں بالخصوص داعش کے خلاف ایران کے موثر اقدامات اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تہران، علاقائی امن و استحکام کی بالادستی کے لئے مخلص ہے.
ایران کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ایران نے ہرگز کسی جنگ میں پہل نہیں کیی بلکہ ایرانی عوام ہمیشہ امن پسند رہے ہیں مگر جب کوئی جنگ ان پر مسلط کردی گئی تو وہ اپنی سرزمین کا دفاع اچھی طرح جانتے ہیں۔
9410٭274٭٭
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@