ایرانی مجلس کی جوہری معاہدے پر صدر روحانی کے فیصلے کی حمایت

تہران، 8 مئی، ارنا – ایرانی مجلس کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے ایک رکن نے کہا ہے کہ ایرانی پارلیمنٹ صدر روحانی کے فیصلے "جوہری معاہدے سے اسلامی جمہوریہ ایران کے کئے گئے وعدوں میں کمی لانا" کی حمایت کرتی ہے.

یہ بات "محمد جواد جمالی نوبندگان" نے ایرانی صدر کی جانب سے جوہری معاہدے پر حالیہ فیصلے کے حوالے سے کہی.
ایرانی مجلس کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے کمیشن کے چیئرمین "حشمت اللہ فلاحت پیشہ" نے جوہری معاہدے کے دوسرے فریقین کو اسلامی جمہوریہ ایران کے پیغام کو امن پسند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دو ماہ موقع اور پیش آنے والے مذاکرات کے ساتھ جوہری معاہدے کی قسمت تعین کرسکتا ہے.
فلاحت پیشہ نے کہا کہ امریکیوں نے عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی کی مگر ان کے برعکس اسلامی جمہوریہ ایران نے جوہری ہتھیار کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی.
تفصیلات کے مطابق، ایرانی صدر نے کہا کہ امریکی علیحدگی سے پہلے یہ سلسلہ ہوتا تھا کہ جب ایران میں یورونیم کی افزودگی تین سو کلوگرام تک پہنچتی تھی تو اسے دو ملکوں کو فروخت کیا جاتا تھا جو اب نہیں ہوگا اور نہ ہی ہیوی واٹر کی فروخت ہوگی.
انہوں نے جوہری معاہدے کے فریقین کو خبردار کیا کہ اگر وہ ایرانی کیس کو ایک بار پھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجیں تو اس کا بھی ایران بھرپور جواب دے گا جس کی نوعیت کے بارے میں جوہری معاہدے کے فریقین کو دئے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے.
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ آج قوم کو بتانا چاہتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران، امریکی خلاف ورزی کے جواب میں جوہری معاہدے کی شق نمبر 36 کے مطابق اس عالمی معاہدے سے متعلق اپنے وعدوں کے بعض حصوں پر عمل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے.
274*9393**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@