ایران، جوہری معاہدے سے علیحدہ نہیں ہوگا: ظریف

ماسکو، 8 مئی، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران کے آئندہ اقدامات بالکل جوہری معاہدے کے اصولوں کے مطابق ہوں گے اور ہم کبھی اس بین الاقوامی معاہدے سے دستبردار نہیں ہوجائیں گے۔

"محمد جواد ظریف" نے روسی دارالحکومت ماسکو کی آمد پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران، بالکل جوہری معاہدے کے اصولوں کے مطابق عمل کرے گا اور یہ بات جوہری معاہدے کے دوسرے اراکین کیلئے ایک موقع فراہم کردیتی ہے تا کہ وہ بھی اپنے کیے گئے وعدوں پر عمل کریں اور صرف بیان جاری کرنے پر انحصار نہ کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے کی شقوں نمبر 26 اور 36 کے مطابق اگر اس معاہدے کے اراکین میں سے کوئی اپنے کیے گئے وعدوں پر نہ عمل نہ کریں تو دوسرے اراکین بھی مجموعی اور جزوی طور پر اپنے وعدوں پر عمل نہ کرنے کا جواز رکھتے ہیں۔
ظریف نے مزید کہا کہ یہ ایک ایسی تبدیلی ہے جو بدھ کے روز ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے اصولوں کے مطابق نافذ ہوجائے گی جس کے بارے مزید تفصیلات ایرانی حکام عوام کے سامنے پیش کریں گے۔
انہوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران، بالخصوص جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے بعد امریکی اقدامات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ صاف ظاہر ہے کہ امریکہ اس بین الاقوامی معاہدے کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے اسی عرصے کے دوران، امریکہ کی اس پالیسی سے واقف ہونے کے باوجود صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہت بڑی افسوس کی بات ہے کہ یورپی یونین اور بین الاقوامی برداری کے دیگر اراکین، امریکہ دباؤ کے سامنے مزاحت کرنے کیلئے بے بس تھے لہذا اسلامی جمہوریہ ایران نے فیصلہ کیا کہ جوہری معاہدے سے متعلق وہ جو اقدامات رضاکارانہ طور پر کررہا تھا فی الحال ان پر عمل نہ کرے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے دورہ ماسکو کا مقصد بھی اپنے روسی ہم منصب "سرگئی لاوروف" کیساتھ ان موضوعات سمیت، علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور روس کا بہت سارے بین الاقوامی مسائل کے بارے میں ایک جیسا موقف رکھتے ہیں۔
ظریف نے کہا کہ ایران اور روس دونوں امریکی یکطرفہ پالیسیوں کے مخالف ہیں چاہیں یہ پالیسیاں جوہری معاہدے کے حوالے سے ہوں یا کہ وینزویلا مسئلے کے حوالے سے۔ ایران اور روس کے درمیان ان سارے مسائل کے بارے میں تعاون تعمیری برقرار ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے شام میں انسداد دہشتگردی کے حوالے سے ایران اور روس کے علاقائی تعاون پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ملکوں نے ترکی کیساتھ شام میں جنگ کے اختتام کے حوالے سے بہت ساری کوششیں کی ہیں جو بین الاقوامی برادری نے انتہاپسندی کی عدم پھیلاؤ کے حوالے سے ان ساری کوششوں کا خیر مقدم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور روس، خطے کے دو اسٹریٹجک شراکت دار ہیں اور ان کے درمیان تعاون کا سلسلہ بدستور جاری رہے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران جوہری معاہدے کے حوالے سے روس جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن اور جوہری معاہدے کا ایک رکن ہے، کیساتھ مذاکرات کرے گا اور ہمارا سب سے پہلا باقاعدہ مذاکرہ بدھ کے روز جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر روسی وزیر خارجہ "سرکئی لاوروف" کیساتھ ہوگا جنہوں نے جوہری معاہدے کو سرانجام پہنچنے تک بہت بڑا اہم کردار ادا کیا۔
ظریف نے کہا کہ روس، حالیہ سالوں میں ایران کا سب سے اہم شراکت دار ہے اور ہمیں امید ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کا سلسلہ مزید سنجیدگی اور روس کے براہ راست کردار کیساتھ جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا گزشتہ سالوں کے دوران، ایران اور روس کے درمیان اقتصادی شعبوں میں تعاون، اپنی بلندترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور ہم آگے بھی باہمی تعاون کے حوالے سے ایک دوسرے کیساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایران جوہری معاہدے سے امریکہ کی یکطرفہ علیحدگی کے ایک سال مکمل ہونے کے بعد بھی عالمی جوہری توانائی ادارہ اپنی 14 رپورٹس میں اس معاہدے سے متعلق اسلامی جمہوریہ ایران کی شفاف کارکردگی کی تصدیق کرچکا ہے.
تاہم اعلی ایرانی سفارتکار اور جوہری مذاکرات کار سید عباس عراقچی نے یہ خبردار کیا ہے کہ ایران کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے والا ہے، امریکی رویے سے جوہری معاہدہ خطرے میں پڑ گیا ہے اور آئے روز اس کے خاتمے کے امکانات بڑھنے لگے ہیں.
اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ امن پسندی اور خطے اور دنیا میں سلامتی و استحکام ملکی پالیسی کا ایک اہم جز ہے.
خطے میں امریکہ اور بعض عرب ممالک کے حمایت یافتہ دہشتگردوں بالخصوص داعش کے خلاف ایران کے موثر اقدامات اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تہران، علاقائی امن و استحکام کی بالادستی کے لئے مخلص ہے.
ایران کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ایران نے ہرگز کسی جنگ میں پہل نہیں کیی بلکہ ایرانی عوام ہمیشہ امن پسند رہے ہیں مگر جب کوئی جنگ ان پر مسلط کردی گئی تو وہ اپنی سرزمین کا دفاع اچھی طرح جانتے ہیں۔
9467**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@