ایران، جوہری معاہدے سے متعلق اپنے وعدوں میں کمی لانے کا اعلان کل کرے گا

تہران،7مئی،ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران، بدھ کے روز امریکی بدعہدی اور جوہری معاہدے سے اس کی یکطرفہ علیحدگی کی وجہ سے اس بین الاقوامی معاہدے سے اپنے کیے گئے وعدوں میں کمی لانے اور اس معاہدے کے ایک اہم ستون کو متزلزل کرنے کے فیصلے کا اعلان کرے گا۔

رپورٹ کے مطابق نائب ایرانی صدر برائے سیاسی امور"سید عباس عراقچی" جوہری معاہدے سے متعلق ایرانی فیصلے کو اس بین الاقوامی معاہدے کے دیگر اراکین کے سفیروں بشمول برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین کو اعلان کریں گے۔
ایران میں تعینات جرمن، فرانس، روس، چین اور برطانیہ کے سفیروں کو ایرانی محکمہ خارجہ میں حاضر ہونے کی دعوت دے کر ان کیساتھ ایک اجلاس میں انھیں جوہری معاہدے سے متعلق ایرانی فیصلے سے آگاہ کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ ایرانی صدر ملکت ڈاکٹر "حسن روحانی" بھی جوہری معاہدے کے 5 رکن ممالک کے سربراہوں کے نام میں ایک خط میں اس بات پر زور دیں گے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے جوہری معاہدے سے متعلق بہت بڑا صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے لیکن اب سارے مواقع ہاتھ سے کھو چکے ہیں اور ایران کے نزدیک اپنے کیے گئے وعدوں میں کمی لانے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔
ایرانی صدر کا خط سیاسی مواد پر مشتمل ہے جس کی تکمیل کے لئے ایرانی وزیر خارجہ "محمد جواد ظریف" بھی یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ "فیڈریکا مغرینی" کے نام میں ایک خط کے ذریعے جوہری معاہدے سے متعلق ایرانی وعدوں میں کمی لانے کے قانونی اور تکنیکی اصولوں کے بارے میں مزید تفصیلات پیش کریں گے۔
واضح رہے کہ ان خطوط کا متن، جوہری معاہدے کی کمیشن کے محرمانہ دستاویزات کا جزء ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی خواست یہ ہے کہ ایران کے بینکنگ تعلقات اور ایرانی تیل سے متعلق صورتحال گزشتہ سال کے مئی مہینے کے موقع پر جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی سے قبل، کی طرح بحال ہوجائے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایران جوہری معاہدے سے امریکہ کی یکطرفہ علیحدگی کے ایک سال مکمل ہونے کے بعد بھی عالمی جوہری توانائی ادارہ اپنی 14 رپورٹس میں اس معاہدے سے متعلق اسلامی جمہوریہ ایران کی شفاف کارکردگی کی تصدیق کرچکا ہے.
تاہم اعلی ایرانی سفارتکار اور جوہری مذاکرات کار سید عباس عراقچی نے یہ خبردار کیا ہے کہ ایران کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے والا ہے، امریکی رویے سے جوہری معاہدہ خطرے میں پڑ گیا ہے اور آئے روز اس کے خاتمے کے امکانات بڑھنے لگے ہیں.
اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ امن پسندی اور خطے اور دنیا میں سلامتی و استحکام ملکی پالیسی کا ایک اہم جز ہے.
خطے میں امریکہ اور بعض عرب ممالک کے حمایت یافتہ دہشتگردوں بالخصوص داعش کے خلاف ایران کے موثر اقدامات اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تہران، علاقائی امن و استحکام کی بالادستی کے لئے مخلص ہے.
ایران کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ایران نے ہرگز کسی جنگ میں پہل نہیں کیی بلکہ ایرانی عوام ہمیشہ امن پسند رہے ہیں مگر جب کوئی جنگ ان پر مسلط کردی گئی تو وہ اپنی سرزمین کا دفاع اچھی طرح جانتے ہیں.

274**9467**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@