شکاگو انسٹی ٹیوٹ کا ہخامنشی دور کے نادر خاکوں کی ایران منتقلی پر تیار

تہران، 7 مئی، ارنا- ایران کے ثقافتی ورثے ادارے کے نائب سربراہ نے کہا ہے کہ شکاگو انسٹی ٹیوٹ برائے مشرقی امور نے ہخامنشی دور کے نادر خاکوں کو ایران میں واپس بھیجنے کیلئے آمادگی کا اظہار کیا ہے۔

"محمد حسن طالبیان" نے ہخامنشی دور سے متعلق نادر خاکوں کو امریکہ سے ایران میں واپس بھیجنے کے حوالے سے کی گئی کوششوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ سے ان خاکوں کی وطن واپسی کا کام کچھ عرصے پہلے آغاز ہوچکا تھا اور اب امریکی وزارت خزانہ نے ایک ہزار 780 نادر خاکوں کو ایران میں منتقل کرنے کیلئے جواز جاری کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی کی جانب سے 1780 نادر خاکوں کو ایران میں منتقلی کے جواز جاری ہونے کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران نے قانونی اداروں کے ذریعے سارے خاکوں کو واپس نہ بھیجنے کیلئے شکاگو انسٹی ٹیوٹ پر اعتراض کیا ہے۔
طالبیان نے مزید کہا کہ کیونکہ تمام خاکوں کو واپس بھیجنے کے حوالے سے جواز جاری کرنے کا کام طویل ہے لہذا ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پہلے مرحلے میں ایک ہزار 780 خاکوں کو ایران میں منتقل کریں اور ساتھ ساتھ امریکی وزارت خزانہ کیجانب سے تمام خاکوں کو واطن واپسی کیلئے جواز جاری رکھنے کے کام کو بھی تعاقب کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہخامنشی دور کے نادر خاکوں کو ایران میں منتقل کرنے کے بعد انھیں نیشنیل ایرانی میوزیم کا حوالہ کردیں گے۔
واضح رہے کہ 1341ھ میں ہخامنشی دور سے متعلق تین ہزار نادر خاکوں کو بحری جہاز کے ذریعے شکاگو انسٹی ٹیوٹ میں منتقل کیا گیا جو 1316ھ میں وہاں پہنچ گئے۔ اسی وقت یہ فیصلہ طے ہوا تھا کہ ان خاکوں پر تحقیقات کے تین سال بعد انھیں ایران واپس بھیج دیں۔
ابتدائی سالوں میں ان خاکوں کو واپس نہیں بھیجا گیا اور بالاخر ایرانی کوششوں کیساتھ 1327 ھ میں ان کے کچھ حصے ایران میں منتقل کیا گیا اور دوسرے مرحلے میں 1383ھ میں ان کے ایک اور حصے کی منتقلی عمل بھی مکمل ہوا تا ہم ابھی ان نادر خاکوں کا ایک حصہ شکاگو انسٹی ٹیوٹ میں موجود ہیں۔
9467**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@