800 سال پرانی ایرانی رصدگاہ "مراغہ" کی تاریخی اہمیت انمول ہے

تہران، 6 مئی، ارنا- 800 سال پہلے، ہلاکوخان بادشاہ کےعہد میں ایران کے نامور معمار اور سائنسدان "خواجہ نصرالدین طوسی" نے مراغہ رصدگاہ کی سنگ بنیاد رکھا جس کی تاریخی اہمیت انمول ہے۔

خواجہ نصرالدین طوسی نے 800 سال پہلے ہلاکو خان سے مالی مدد حاصل کی اور مراغہ شہر کے قریب ایک پہاڑی پر ایسی رصدگاہ قائم کی جو بعد میں اسلامی دنیا کی سب سے بڑی رصدگاہ کے طور پر معروف ہوئی۔
مراغہ کی رصدگاہ کی تعمیر 656ھ میں شروع ہوا اور 672ھ میں مکمل ہوئی۔ اس تعمیر میں فلسفہ و طب اور علم و دین حاصل کرنے والے طالب علموں کے لئے الگ الگ مدارس و عمارتیں بنائی گئی تھیں.
اس سائنسی کام میں جن علما ء و دانشمندوں نے طوسی کا ساتھ دیا ان میں سے "نجم الدین کابتی قزوینی" صاحب کتاب منطق شمسیہ ،"موید الدین عرضی" صاحب کتاب شرح آلات رصدیہ ،"فخرالدین خلاصی"، "محی الدین مغربی" اور "فرید الدین طوسی" کانام دیا جا سکتا ہے۔
طوسی نے تمام معروف ماہرین فلکیات کو مراغہ شہر میں اکٹھا کیا۔ اسی رصد گاہ کی بلڈنگ میں وہ تمام مسودات اکٹھے کر لئے گئے اور محفوظ کر لئے گئے جو بغداد، دمشق اور دوسرے شہروں سے بچا کر لائے گئے تھے۔
یہاں کا کتب خانہ "ابن فوطی" کی نگرانی میں کام کرتا رہا۔ فلکیات پر تحقیق و تخلیق یہاں دوبارہ شروع ہوگئی۔ یہیں پر شیرازی کی 2 جلدوں پر مشتمل فلکیات کی کتاب لکھی گئی۔
اگر آج کل مغرب کی لائبریریوں میں مسلم سائنسدانوں کی کتابوں کے نمونے موجود ہیں تو یہ اسی مراغہ شہر میں قائم لائبریری کی وجہ سے ہی ہیں۔
مراغہ کی رصدگاہ اسلام میں پہلی رصد گاہ نہیں تھی بلکہ اس سے قبل بھی کئی رصدگاہیں موجود تھیں-
طوسی کے عظیم کارناموں میں سے ایک مراغہ کی رصدگاہ کے قریب کتب خانے کی تعمیر تھیں یہاں تک کہ اس کتب خانے میں چار لاکھ کتابوں کا ذخیرہ ہو گئے۔
محقق طوسی بے پناہ علم و دانش اور مختلف فنون پر عبور رکھنے کے ساتھ بہترین اخلاق و صفات حسنی کے حامل تھے جس کابیان تمام مورخین نےکیاہے ۔
طوسی کو صرف قلم وکتاب والے دانشمندوں میں شمارنہیں کیا جاسکتا کیونکہ انہوں نے علمی و فلسفیانہ کارناموں کو اپنی زندگی کا مقصد نہیں بنایا تھا بلکہ ان کے ہاں علم کو اخلاق و معرفت پر سبقت حاصل نہیں تھی چنانچہ جہاں بھی انسانیت و اخلاق و کردار کی بات آتی وہ اخلاق اور تمام انسانی اسلامی قدروں کو کلام و مفہوم بےروح پر ترجیح دیتے تھے۔
9467**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@