چین، ایرانی تیل پر امریکی پابندیوں کی پیروی نہیں کرے گا

بیجنگ، 6 مئی، ارنا – ایران میں تعینات سابق چینی سفیر نے دونوں ملکوں کے قریبی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یقینا چینی حکومت ایرانی تیل سے متعلق امریکی پابندیوں کی پیروی نہیں کرے گی.

یہ بات مشرق وسطی کے تجزیہ کار اور سابق سفیر "ہوالی مین" نے چینی میڈیا "یی سی" کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
رپورٹ مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران شاہراہ ریشم منصوبے میں چین کا اہم شراکت دار ہے لہذا امریکی دباؤ کے باوجود بیجنگ ایران مخالف یکطرفہ پابندیوں کی پیروی نہیں کرے گا۔
چین کی سرکاری نیوز ایجنسی شن ہوا نے چین کے لئے تیل اور توانائی کی فراہمی میں ایران کے اہم کردار پر زور دیا اور کہا کہ چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ملک ہے اور 2018 کو اس ملک نے 22 ملین ٹن ایرانی تیل درآمد کیا۔
چینی سفیر نے کہا کہ ہمارا ملک امریکی مطالبات کو پورا نہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تجارتی، تیل اور توانائی تعلقات کو روک نہیں کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران چین کے لئے بڑے اقتصادی، سیاسی اور سیکورٹی شراکت داری ملک ہے اور ہم شاہراہ ریشم کے منصوبے کا اصلی حامی ہیں۔
ہوالی مین نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران امریکی پابندیوں کے خلاف بہترین موقف اختیار کرلیتا ہے اور ایران مخالف امریکی فیصلہ بالکل غلطی ہے۔
274٭9393٭٭
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@