ایران، گرے مارکیٹ کے ذریعے تیل کی فروخت کرے گا

تہران، 5 مئی، ارنا- نائب ایرانی وزیر تیل برائے بین الاقوامی اور تجارتی امور نے کہا ہے کہ ایران کیخلاف امریکی ظالمانہ پابندیوں کے سامنے مزاحمت کرتے ہوئے، گرے مارکیٹ کے ذریعے اپنی تیل کی فروخت کیلئے ساری ملکی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے۔

یہ بات "امیر حسین زمانی نیا" نے اتوار کے روز دارالحکومت تہران کی آزاد اسلامی یونیورسٹی میں "ایرانی تیل کیخلاف امریکی پابندیاں اور اس کے بین الاقوامی اثرات" کے عنوان کے تحت منعقدہ ایک نشست میں کہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ یورپ ممالک سمیت، روس اور بھارت بھی امریکی طاقت کی وجہ سے اس کے پیچھے پڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ یورپ، ایران جوہری معاہدے کی حمایت کرتا ہے اور امریکہ کی جانب سے اس بین الاقوامی معاہدے سے علیحدگی کی مذمت بھی کرتا ہے لیکن وہ عملی طور پر کوئی موثر اقدام نہیں اٹھا سکتا ہے۔
زمانی نیا نے مزید کہا کہ ایرانی تیل کی خریداری کے حوالے سے 8 ممالک کو امریکہ سے استثنی حاصل ہوئی ان میں سے یونان، اٹلی اور تایوان نے ایران سے تیل نہیں خریدی لیکن چین، جاپان، بھارت، ترکی اور جنوبی کوریا نے ایران سے تیل کی برآمدات کا سلسلہ جاری رکھ دیا اور ابھی بھی ہم گرے مارکیٹ میں تیل کی فروخت کیلئے ساری ملکی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ کوئی اسمگلنگ نہیں بلکہ ظالمانہ اورغیرقانونی امریکی پابندیوں کا مقابلہ کرنا ہے۔
نائب ایرانی وزیر تیل نے کہا کہ ہم نے ایک نیا بازار دریافت کیا ہے اور گرے مارکیٹ میں اپنی تیل کی فروخت کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت، ایران میں ادویات، فضائی سلامتی اور غذایی تحفظ سے متعلق عالمی عدالت انصاف کی رائے کی پروا کیے بغیر ایران کیخلاف پابندیوں کے نئے دور کا آغاز کردیا۔
زمانی نیا نے ایران کیلئے یورپ کی مخصوص مالیاتی نظام انسٹیکس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران مخالف امریکی پابندیوں کی وجہ سے ابھی اس میکنزم پر مکمل طور پرعمل در امد نہیں ہوا ہے۔ انسٹیکس کا مقصد ایران اور یورپ کے درمیان تجارتی لین دین کیلئے سہولیات فراہم کرنے کا ہے۔
انہوں نے ایران کیجانب سے جوہری معاہدے سے علیحدگی کے امکان کے بارے میں کہا ہے کہ یہ کوئی قرارداد نہیں جس سے ہم علیحدہ نہ ہوسکیں یہ ایک سیاسی مفاہمت نامہ ہے جس سے ہر کسی فریق علیحدہ ہوسکتا ہے اور ساتھ ساتھ اس کا جرمانہ بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی سے پہلے اور حتی اس کے بعد بھی، ایران، جوہری معاہدے سے علیحدہ ہوسکتا تھا اور ساتھ ساتھ اس کا جرمانہ بھی ادا کرنا پڑا تھا۔
زمانی نیا نے ایران جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے بارے میں ایرانی وزیر خارجہ "محمد جواد ظریف" کے بیانات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ امریکہ، جوہری معاہدے سے علیحدہ نہیں ہوسکتا ہے بلکہ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو جوہری معاہدے سے علیحدگی کی صورت میں اس کا جرمانہ بھی ادا کرنا پڑے گا جیسا کہ اب بھی ایسا کر رہا ہے۔
نائب ایرانی وزیر تیل نے کہا ہے کہ ہم نے پہلے بھی وارننگ دی تھی کہ ایرانی تیل پر امریکی پابندیوں کی وجہ سے تیل مارکیٹ کو عدم شفافیت کی وجہ سے کرپشن کا شکار ہوگا۔
انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے امکان کے بارے میں بھی کہا تھا کہ اس حوالے سے ایرانی فوجی حکام وضاحتیں پیش کر سکتے ہیں۔
9467**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@