ایرانی تیل کیخلاف پابندیوں کا سب سے بڑا نقصان ترکی اور بھارت کو ہوگا

تہران، 5 مئی، ارنا- انگریزی زبان ہفتہ وار اخبار "عرب" کے مطابق امریکہ کی جانب سے ایرانی تیل کے خریداروں کو ملنے والی استثنی کی عدم توسیع کا سب سے بڑا نقصان ترکی اور بھارت کو ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق، ترکی اور بھارت کی جانب سے ایرانی تیل کی برآمدات میں کمی کی وجہ سے ان دونوں ملکوں کو توانائی کی ضروریات پورا کرنے کے حوالے سے بہت سارے مشکلات کا سامنا ہوگا اور ساتھ ساتھ ان کی معاشی صورت حال بھی بُری طرح متاثر ہوگی۔
اس رپورٹ میں مزید لکھا گیا ہے کہ کیونکہ ترکی اور بھارت کی خارجہ پالیسی، اسلامی جمہوریہ ایران کیساتھ مماثلت رکھتی ہے اور ان دونوں ممالک کی اندرونی مارکیٹ بھی ایرانی تیل سے منسلک ہے اسی لئے ایرانی تیل کے خلاف امریکی پابندیوں کی وجہ سے بھارت اور ترکی کی حکومتیں، ایران سے تیل خریدنے کا سلسلہ جاری رکھنے کیلئے نئے میکنزم کے قیام کے درپے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران سے تیل برآمد کنندہ ممالک کو دی گئی چھوٹ کی عدم توسیع کے بعد ترکی نے واضح طور کہا ہے کہ وہ امریکہ کی یکطرفہ غیر قانونی پابندیوں پر قائم نہیں ہوگا جبکہ بھارت نے امریکہ پالیسیوں کے سامنے صلح جویانہ رویہ اپنایا ہے۔
گزشتہ ہفتے کے دوران بھی ترک وزیر خارجہ نے یکطرفہ امریکی پابندیوں کے تناظر میں یہ بات واضح کردی ہے کہ ترکی کے لئے ایرانی تیل کی جگہ کسی اور ذریعہ کی تلاش مشکل ہے.
انہوں نے کہا کہ ایران مخالف امریکی پابندیوں سے تمام ملکوں کو نقصان ہوگا اور ان مشکلات سے کوئی بھی ملک نہیں بچے گا.
یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی وزیر خارجہ "مائیک پمپیو" نے ایران کیخلاف دشمن پالیسی کے تسلسل میں پابندیوں کے حوالے سے ایران سے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی دی گئی چھوٹ کی عدم تجدید کا اعلان کر دیا۔
9467**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@