امریکی انتظامیہ کو انسانی حقوق سے کوئی سر و کار نہیں ہے: ایران

تہران، 1 مئی، ارنا- ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ کو انسانی حقوق پر کوئی یقین نہیں ہے لہذا وہ اخلاقی اور قانونی طور پر انسانی حقوق کے معاملات میں مداخلت کا کوئی جواز نہیں رکھتا ہے۔

ترجمان "سید عباس موسوی" نے اپنے امریکی ہم منصب کی جانب سے مداخلت پر مبنی اظہارات کے رد عمل میں کہا کہ آج پوری دنیا پر واضح ہے کہ امریکی جابر انتظامیہ کو نہ انسانی حقوق سے کوئی سر و کار ہے اور نہ ہی اس کو اخلاقی اور قانونی طور پر انسانی حقوق کے معاملات میں دخل اندازی کا کوئی حق ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں میں سعودی عرب میں 37 سیاسی سرگرم کارکن کے سر قلم کرنے پر امریکی خاموشی ،اس بات کی واضح مثال ہے جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ امریکہ انسانی حقوق کے اصولوں کو بطور سیاسی ہتھیار اور لین دین کے لئے استعمال کرتا ہے۔
ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ ایرانی عوام کیخلاف امریکی پابندیاں بھی انسانی حقوق کے اصولوں کی سب سے بڑی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے اصولوں پر قائم رکھنا سارے ملکوں کی ذمہ داری ہے لیکن امریکہ کو اپنے سیاہ کارنامہ کی وجہ سے اس حوالے سے اپنے اصولوں پر فوری طور نظر ثانی رکھنے کی ضررت ہے۔
موسوی نے کہا کہ امریکہ میں نسلی اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی بدستور خلاف وزری، امریکہ کی جانب سے شہریوں کے قتل عام کے حوالے سے اربوں ڈالر پر مشتمل اسلحے کی برآمدات، خطرناک قیدوں میں تشدد اور ایران کیخلاف ظالمانہ پابندیاں،امریکی سیاہ کارنامہ کا ایک حصہ ہے لہذا اسلامی جمہوریہ ایران کو دھوکہ دہی اور فریب پر مبنی امریکی حمایتوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
9467**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@