قوموں پر یکطرفہ خواہشات مسلط کرنا سب کیلئے خطرناک ہے: ظریف

تہران، 1 مئی، ارنا – ایرانی وزیر خارجہ نے دنیا میں انفرادیت کی روک تھام اور اجتماعیت کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بعض قوتوں کی جانب سے قوموں پر یکطرفہ خواہشات مسلط کرنا سب کے لئے خطرے کا باعث بنے گا.

یہ بات «محمد جواد ظریف» نے بدھ کے روز قطری دارالحکومت دوحہ میں ایشیائی تعاون ڈائیلاگ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی.
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ہم دنیا میں اجتماعیت کی توسیع کے لئے اپنی صلاحیتوں سے صحیح انداز میں استفادہ نہ کریں تو انفرادیت کو اندھی حمایت حاصل ہوگی اور اس سے قانون اور آئین کی جگہ جنگل کا قانون سامنے آئے گا.
ظریف نے بتایا کہ ایشیائی ڈائیلاگ فورم کا آغاز 2002 سے ہوا جس کے ذریعے سے ہم اجتماعیت اور باہمی تعاون کے عمل کو بڑی کامیابی سے آگے بڑھارہے ہیں.
انہوں نے مزید بتایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایشیائی تعاون ڈائیلاگ کو ایشین خطے کے لئے بڑی کامیابی سمجھتا ہے جس کے لئے ہم اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لائے ہیں تا کہ ایشین تعاون 2030 کے ویژن کو یقنی بنایا جاسکے.
ایرانی وزیر خارجہ نے ایشیائی ممالک کے درمیان ثقافت و سیاحت سے متعلق تعاون کی توسیع پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے اس حوالے سے مثالی اقدامات اٹھائے ہیں جس کی مثال تہران میں قائم کردہ ایشیائی تعاون ڈائیلاگ کا ثقافتی مرکز ہے.
انہوں نے اس فورم میں شریک ممالک پر زور دیا کہ ہم سب کو مل کر موجودہ امریکی انتظامیہ کے یکطرفہ اور خطرناک اقدامات کا جواب دینا ہوگا کیونکہ دوسری قوموں پر جبر و زبردستی مسلط کرنا سب کے لئے خطرے کا باعث بنے گا.
محمد جواد ظریف نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران دنیا میں باہمی مذاکرات اور اجتماعیت کے عمل کو فروغ دینے کے لئے بااعتماد پارٹنر کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا.
انہوں نے مزید کہا کہ ایشیائی تعاون ڈائیلاگ کے مقاصد کے حصول کے لئے ای سی او، سارک، آسیان اور ڈی ایٹ جیسی تنظیموں کو مزید فعال بنایا جاسکتا ہے.
9410٭274٭٭
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@