ایکو ٹورازم : ایران میں گردنہ حیران کی سیر کی خوشی

تہران، 1مئی، ارنا – "حیران" نامی دلکش گاؤں ایرانی شمالی صوبے گیلان کے علاقے آستارا اور بحیرہ کسپین کے کنارے کے قریب پر واقع ہے۔

موسم گرما میں ایرانی مغربی صوبے اردبیل کو سیاحت کرنے والے افراد گردنہ حیران کے راستے کو انتخاب کرلیتے ہیں تا کہ اپنی سیر کے دوران اس علاقے کی قدرتی خوبصورتی کا لطف اٹھائیں۔
"حیران یا ہیران" کا لفظ ایرانی شمالی علاقے تالش میں بادل اور دھند ہونے والا مقام کہا جاتا ہے اور گردنہ حیران کی اہم خصوصیت میں سے ایک ہمیشہ دھند سے مالامال ہے۔
آستارا اور اردبیل کے راستے کو جوڑنے والا گردنہ حیران جس کے ایک طرف گھنے پہاڑ اور ہڑے بھرے جنگل موجود ہے اس سے آقچای نامی دریا گزرتا ہے اور یہ دریا ایران اور جمہوریہ آذربائیجان کے درمیان سرحد میں واقع ہے۔
یہ گاؤں اپنی قدرتی خوبصورتی کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران میں ایک سیاحتی علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے اور حالیہ سالوں میں اپنی مناسب موسموں کی وجہ سے بہت سی سیاح ان کے سیاحتی اور تفریحی مقامات کی سیر سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
گردنہ حیران ایرانی صوبے گیلان کو صوبے اردبیل سے منسلک کر رہا ہے۔
سال کے اکثر دنوں میں یہ علاقہ دھند سے مالامال ہے جس کی وادی اور کنارے پر جنگل، پھول اور مختلف پودے موجود ہیں۔
اس علاقے کی اونچائی آزاد پانیوں کی سطح سے تقریبا 1500 میٹر ہے۔ اس علاقے میں دھند کی اصلی وجہ کیسپین سمندر کی نمی ہے نہ ان کی طویل اونچائی۔
حالیہ سالوں کے دوران اس علاقے میں تلہ کیبن تعمیر کیا گیا ہے جس کی وجہ سے زیادہ سیاحوں کو اپنی طرف راغب کرسکتا ہے۔
گردنہ حیران کی سیر کرنے والے سیاح اس کے راستے میں روایتی کھانوں کے ساتھ مختلف ریستوران ، مویشیوں اور شہد کی مکھی کی موجودگی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
گردنہ حیران کا راستہ پیچیدہ اور یہ تقریبا 40 کلو میٹر طویل ہے.
274٭9393٭٭
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@