ایران میں جندی شاپور یونیورسٹی کی دوسری عالمی کانگریس کا آغاز

دزفول، 26 فروری، ارنا – ایران کے جنوب مغربی صوبے خوزستان کے شہر دزفول میں جندی شاپور یونیورسٹی کی دوسری بین الاقوامی کانگریس کا آغاز کیا گیا جس میں عالمی دس نامور سائنسدان شریک ہیں.

تفصیلات کے مطابق، فرانسیسی لوور میوزیم سے ایران کی شناخت کا سائنسدان "فرانسیس ریشار"، تاریخ، فلسفہ اور علم کا فرانسیسی مسلم سائنسدان "رشدی راشد"، اطالوی پیزا یونیورسٹی کا پروفیسر "آموس برتولاچی، پائولو دلائینی، برنو جنیتو"، آرمینی یونیورسٹی کا پروفیسر "وارتان واسکانیان" اور ایران میں اقوام متحدہ کی نمائندہ "ماریا دوتنسکو" منعقد ہونے والی دو روزہ کانگریس کے اہم مہمان ہیں.
بھارت سے "سید زوار رحمان" بھی اس عالمی کانگریس میں شریک ہے.
ایرانی وزیر سائنس، تحقیق اور ٹیکنالوجی "منصور غلامی"، ایرانی سپریم لیڈر کے سنیئرمشیر برائے بین الاقوامی امور "علی اکبر ولایتی" اور ارنا نیوز ایجنسی کے سربراہ "سید ضیاء ہاشمی" نے منعقد ہونے والی کانگریس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی.
جندی شاپور یونیورسٹی کا پہلا بین الاقوامی کانگریس گزشتہ دوسال پہلے منعقد ہوا تھا۔
جندی شاپور یونیورسٹی کا شمار دنیا کی سب سے پرانی یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے جس کا سنگ بنیاد ایک ہزار 750 سال پہلے رکھا گیا تھا۔
2017 ء میں پیرس میں منعقدہ یونیسکو تنظیم کی 39 ویں جنرل کانفرس میں جندی شاپور یونیورسٹی اس تنظیم کی عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا اور اس یونیورسٹی کو دنیا کی سب سے پرانی یورنیورسٹی کے طور پر رجسٹرڈ کیا گیا۔
274*9393**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@