نئی تاریخ رقم، ایرانی خاتون نے آسکر ایوارڈ جیت لیا

تہران، 25 فروری، ارنا- ایرانی نژاد خاتون امریکی شہری "رایکا زہتابچی" نے اپنی ڈاکومنٹری فلم "Period. End of Sentence." پر آسکر ایوارڈ حاصل کرکے ایک نئی تاریخ رقم کرلی۔

رپورٹ کے مطابق زہتابچی پہلی ایرانی خاتون ہے جنہوں نے آسکر ایوارڈ حاصل کیا ہے۔
"۔Period. End of Sentence" ڈاکومنٹری فلم کا موضوع، بھارت کے معاشرے میں خواتین کی صحت کے مسائل پر ہے۔
25 سالہ خاتون فلم میکر نے آسکر ایوارڈ جیتنے کے بعد کہا کہ مجھے یقین نہیں ہو رہا کہ ماہواری اور خواتین کی صحت کے مسائل پر بنی فلم کو آسکر ملا ہے-
فلم میں ماہواری سے متعلق ٹیبوز اور ممنوعات کے خلاف ہندوستانی عورتوں کی جد وجہد کو بڑی خوبی سے دکھایا گیا ہے۔
25 منٹ کی اس فلم میں بھارت کی ایک گاؤں کی خواتین کی صحت سے متعلق مسائل پر بنائی گئی ہے جنہیں حفظان صحت کی مصنوعات تک رسائی حاصل نہیں اورگاؤں کی بڑی تعداد لڑکیوں نے اس مسئلے پر شرم محسوس کرنے کی خاطر سکول کو چھوڑ دیا۔
یہ فلم لاس اینجلس کے اوک ووڈ اسکول کے طلبا کے ایک گروپ اور ان کی ٹیچر میلیسا برٹن کے ذریعے قائم دی پیڈ پروجیکٹ کے ذریعے شروع کی گئی ۔
زہتابچی نے کہا کہ اس فلم کو بنانے کا مقصد، دنیا میں خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔
9467*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@