ایران میں نظام کو پلٹانے کی کوشش بڑی غلطی ہوگی: ہاویئر سولانا

تہران، 25 فروری، ارنا - یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سابق سربراہ ''ہاویئر سولانا'' نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ایرانی نظام سے مقابلہ یا اسے پلٹانے کی کسی بھی طرح کی کوشش بڑی غلطی ہوگی.

ہاویئر سولانا نے اپنے ایک مضمون میں جو پروجیکٹ سنڈیکیٹ ویب سائیٹ میں شائع ہوا تھا، مزید کہا کہ ایران میں اسلامی جمہوریہ نظام کو پلٹانے کی ہر کوشش بہت بڑی غلطی ہوگی.
انہوں نے ایران میں اپنے سفارتی تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بحیثیت چیف یورپی خارجہ پالیسی ایران جوہری مذاکرات سے متعلق ڈاکٹر حسن روحانی اچھی پیشرفت حاصل ہوئی تھی.
سولانا نے مزید کہا کہ 2013 کے الیکشن میں ڈاکٹر روحانی کی کامیابی سے عالمی برادری نے جوہری معاہدے کرنے پر بڑی پیشرفت کی اور یہ طویل المدت سفارتی کشیدگی کے خاتمے کے لئے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا.
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے آنے کے بعد انہوں نے ڈالر سے غلط فائدہ اٹھایا جس کی وجہ سے ایران اور امریکہ کے درمیان تناو میں اضافہ ہوا.
ہاویئر سولانا نے مزید کہا کہ امریکہ نے وارسا کانفرنس کے ذریعے ایران کے خلاف ایک اور محاذ کھولا تھا بلکہ اس نے ایران اور یورپی ممالک کے درمیان خلفشار پیدا کرنے کی کوششیں کیں.
انہوں نے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ ایران میں نظام کے خلاف کوئی اقدام یا جوہری معاہدے کو اگر ختم کیا جائے تو اس سے خطے اور دنیا کو بڑا نقصان ہوگا جس کی وجہ سے بدامنی میں بھی اضافہ ہوگا.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@