افغان تجار کی ایرانی بندرگاہ چابہار کے ذریعے تجارت کرنے کی دلچسبی

کابل، 24 فروری، ارنا- افغانستان کے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب سربراہ نے کہا ہے افغانستان میں تاجر برادری اور کاروباری حلقے چابہار بندرگاہ کو مصنوعات کی ترسیل اور درآمدات کے لئے ایک اہم ذریعہ سمجھتے ہیں.

یہ بات "خان جان الکوزی" نے چابہار کے ذریعے افغانستان کی پہلی کھیپ کو بھارت میں ترسیل کی تقریب میں کہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ چابہار، دوسرے ٹرانزٹی راستوں کے مقابلے میں افغانستان کے قریب ہے او اسی لئے افغان تجار کو چابہار کے ذریعے تجارت کرنے کی دلچسبی رکھتے ہیں۔
جان الکوزی نے کہا کہ افغان تجار، چابہار کے ذریعے دنیا کے دوسرے علاقوں تک آسانی سے رسائی حاصل کرسکتے ہیں-
انہوں نے ایران اور بھارت کے حکام سے مطالبہ کیا کہ اس حوالے سے اپنے وعدوں پر عمل کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تین ممالک کے وعدوں کے مطابق، چابہار کے فروغ کے ذریعے، جہاز مصنوعات کی بھاری مقدار لے کر اس بندرگاہ میں لنگر انداز ہو سکتے ہیں۔
افغانستان کے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے کہا کہ چاہہار کی رونق بڑھانے کے ساتھ ساتھ دوسرے مسائل بھی آسانی سے حل ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان، سالانہ 80 سے 90 لاکھ ڈالر تک بھارت سے مصنوعات درآمد کر رہا ہے جو اس سے قبل "بندرعباس" بندرگاہ کے ذریعے افغانستان میں پہنچ چکی تھیں جس کی مجموعی بھاؤ، براستہ چابہار کی بنسبت، 50 سے 80 لاکھ ڈالر تک زیادہ تھی۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ چابہار بندرگاہ فعال ہونے کیساتھ افغان تجار اسی راستے سے اپنی مصنوعات کو ترسیل اور درآمد کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق افغانستان چاروں طرف سے خشکی میں گھرا ہوا ہے اور اس کو اقتصادی اعتبار سے ترقی کرنے کے لئے علاقے کی بندرگاہوں تک رسائی حاصل کرنا ہوگی-
افغانستان کی مصنوعات کو دنیا کے مختلف ملکوں میں برآمد کرنے کے لئے چابہار بندرگاہ مددکار ثابت ہوگی۔
*9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@