ایران، جوہری معاہدے سے پہلے کی صورتحال میں واپس جانے کی صلاحیت رکھتا ہے

تہران، 22 فروری، ارنا - ایران کے جوہری توانائی ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ ایران، ٹیکنالوجی کے لحاظ سے جوہری معاہدے سے پہلے کی صورتحال میں واپس جانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے.

''علی اکبر صالحی'' نے الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے مزید کہا کہ ایران، عملی اور ٹیکنالوجی کے طور جوہری معاہدے سے پہلے کی پوزیشن پر جاسکتا ہے.
انہوں نے یہ بات واضح کردی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں ہے.
صالحی نے ایران مخالف وارسا کانفرنس سے متعلق کہا کہ یہ ایک ناکام کانفرنس تھی جس کی ہمارے نزدیک کوئی اہمیت نہیں اور نہ ہی اس سے کوئی نتیجہ نکلا.
انہوں نے کہا کہ وارسا کانفرنس میں امریکہ اور صہیونی رہنماوں کی ایران فوبیا سازش کو شکست ملی، وہ ایران کے خلاف کوئی مشترکہ فیصلہ نہ کرسکے جو ان کے لئے رسوائی کا باعث ہے.
علی اکبر صالحی نے ایران کی جانب سے عالم اسلام کے اہم مسائل بشمول فلسطینی عوام کی حمایت سے متعلق کہا کہ عرب دنیا میں رائے عامہ کو اس حقیقت کا ادراک ہے اور انھیں پتہ ہے کہ دوست کون ہے اور دشمن کون.
انہوں نے مزید کہا کہ ایران، امریکی پابندیوں کو پیچھے چھوڑنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، معاشی طور پر کچھ مشکلات ہیں مگر ایران جو مختلف شعبوں میں خودکفیل ہے، اس مرحلے سے بھی کامیابی کے ساتھ گزرے گا.
ایران کے جوہری توانائی ادارے کے سربراہ نے مزید کہا کہ ایران میں اسلامی جمہوری نظام کا تعلق عوام سے ہے، آج ہم نے انقلاب کی 40ویں سالگرہ کا جشن منایا جبکہ یوم آزادی میں بھی کروڑوں عوام نے ریلیوں میں شرکت کر کے ملکی نظام سے ایک بار پھر اپنی وفاداری کا اعلان کردیا.
اس موقع پر انہوں نے ایران جوہری معاہدے میں شامل یورپی فریقین پر زور دیا کہ وہ اپنے وعدوں پر قائم رہیں.
انہوں ںے ایران کی علاقائی پالیسی اور شام و عراق کے مسائل سے متعلق کہا کہ ایران ان دونوں ملکوں کی قانونی حکومتوں کی درخواست پر وہاں گیا جس کا مقصد ان ممالک کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مدد فراہم کرنا تھا.
صالحی نے مزید کہا کہ ایران، خلیج فارس کے ممالک کے لئے بھلائی کے سوا کچھ نہیں چاہتا، ہم ان ممالک میں امن و استحکام کی حمایت کرتے ہیں تاہم یہ ممالک کچھ اور سوچتے ہیں.
انہوں نے بتایا کہ صدر روحانی اور وزیر خارجہ بارہا یہ اعلان کرچکے ہیں کہ ایران، سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کے لئے تیار ہے. سعودی عرب کی سرزمین اور دولت پر ہماری نظر نہیں بلکہ ہم تمام علاقائی ممالک کے لئے خیر و عافیت چاہتے ہیں.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@