جوہری معاہدہ، ایران کا ایک بار پھر دوسرے فریق سے عمل درآمد کرنے کا مطالبہ

بیجنگ، 20 فروری، ارنا - سنیئر ایرانی سیاستدان اور پارلیمنٹ کے اسپیکر نے جوہری معاہدے کے مغربی فریقین سے ایک بار پھر یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے وعدوں پر قائم رہیں اور اس معاہدے کے مکمل نفاذ کو یقینی بنائیں.

یہ بات ''علی لاریجانی'' نے بدھ کے روز دورہ چین کے موقع پر بیجنگ کی ''رینمن یونیورسٹی'' کے ایک سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی.
اس سمینار میں ایرانی وفد کے اراکین، چینی پروفیسرز اور طالب علم شریک تھے.
لاریجانی نے کہا کہ اس کے باوجود کہ ایران جوہری معاہدے کے فریقین نے امریکہ کے غیرقانونی مطالبات ماننے سے انکار کیا اور اسے بچانے کے کئے میدان میں آئے مگر ہماری توقع ہے کہ دیگر فریقین اپنے وعدوں پر من و عن عمل کریں تا کہ دنیا میں چندفریقی تعاون کی مثال قائم رہے.
انہوں نے کہا کہ عالمی جوہری ادارے نے اب تک 13 مرتبہ ایران کی شفاف کارکردگی کی تصدیق کرتے ہوئے جوہری معاہدے سے متعلق ایرانی وعدوں پر عمل درآمد کے حوالے سے رپورٹس شائع کی تھیں.
علی لاریجانی نے مزید کہا کہ امریکہ نے مہم جوئی کے مقصد سے ایران جوہری معاہدے سے نکل گیا اور انتہائی بے شرمی کے ساتھ دوسروں سے یہ مطالبہ کررہا ہے کہ وہ بھی ایسے مکروہ اقدام کریں.
انہوں نے کہا کہ دوسرے ممالک کے معاملات میں عدم مداخلت اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی کا اہم جز ہے، ہم ممالک کی سالمیت کے احترام کو اہم سمجھتے ہیں اور قوموں کو اپنے مستقبل پر فیصلہ کرنے کے حق کو بھی تسلیم کرتے ہیں تاہم امریکہ صہیونیوں اور دہشتگروں کی حمایت کرکے قانونی حکومتوں کو گرانے کی سازشیں کرتا ہے.
ایرانی اسپیکر نے بتایا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں امریکی مداخلت اور جارحیت خطے اور عالمی برادری کے لئے سنگین خطرہ ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ 40 سال پہلے ایرانی عوام نے امام خمینی (رح) کی قیادت میں ملک سے امریکی نواز کرپٹ نظام کا خاتمہ اور امریکہ کو نکال باہر پھینک دیا.
لاریجانی نے بتایا کہ بانی عظیم اسلامی انقلاب کے ویژن تمام اقوام کے ساتھ پُرامن بقام، امن کی حمایت اور مظلوم قوموں کا دفاع پر مبنی ہے.
انہوں نے مزید بتایا کہ اسلام جمہوریہ ایران نے عراق اور شامی حکومتوں کی درخواست پر وہاں موجود سفاک دہشتگردوں کے خاتمے کے لئے کردار ادا کیا اور آج اب دیکھ رہے ہیں کہ داعش کو ہونے والے سنگین نقصانات سے آج ان ممالک میں امن و سلامتی کی صورتحال بہتر ہورہی ہے اور یہ فتح قائد اسلامی انقلاب حضرت آیت اللہ خامنہ ای کی موثر حکمت عملی سے حاصل ہوئی ہے.
علی لاریجانی نے کہا کہ امریکہ، دہشتگردی کا اصل حامی ہے جس کی وجہ سے افغانستان، عراق، شام اور بعض دیگر ممالک کئی سالوں سے عدم استحکام اور بدامنی کا شکار ہیں.
انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے بعض خطی ممالک بھی اس سازش میں شامل ہوئے مگر اسلامی جمہوریہ ایران خطے کے بعض ممالک میں بحرانوں کے آغاز کے شروع دن سے ہی ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے تمام مسائل کو سیاسی طریقوں سے حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے.
علی لاریجانی نے کہا کہ آج ناجائز صہیونی ریاست جسے ہم ملک کا نام نہیں دے سکتے ایک شرانگیز جمہوریت کی مثال ہے، صہیونی حکمران مشرق وسطی کے خطے میں مہم جوئی کررہے ہیں تا کہ مظلوم فلسطینی عوام کے حقوق کا امریکہ کی تجویز کردہ سازش سنچری ڈیل کے ساتھ سودا کریں.
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسی شیطانی سازشوں کا مقابلہ صرف اجتماعی تعاون سے ممکن ہے دوسری صورت میں عالمی امن و سلامتی کو سنگین خطرات کا سامنا ہوگا.
اس موقع پر انہوں ںے ایران اور کے درمیان تمام شعبوں میں تعاون کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی مہارت اور مختلف شعبوں اپنے تجربات کو دیگر ممالک کے ساتھ تبادلے پر آمادہ ہے.
علی لاریجانی چینی منصوبہ ون بیلٹ ون روڈ کو خوش آئندہ قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ چین کا یہ اقدام تاریخی ہے. یہ منصوبہ ہمیں شاہراہ ریشم کی تاریخ کو تازہ کرتا ہے جو امن، تعاون، شراکت داری، تربیت اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہے.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@