خارجی عناصر ایران پاکستان تعلقات کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں: پاکستانی سفیر

تہران، 19 فروری، ارنا - پاکستان میں تعینات خاتون پاکستانی سفیر نے زاہدان دہشتگرد حملے پر ایرانی قوم سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خارجی عناصر ہمارے تعلقات کو خراب کرنا چاہتے ہیں مگر ہمیں ان کے مکروہ عزائم کو روکنا ہوگا.

ان خیالات کا اظہار ''رفعت مسعود'' نے منگل کے روز ارنا نیوز کے نمائندے کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا.
انہوں نے زاہدان،خاش روڈ پر حالیہ بزدلانہ کاروائی پر ہمدری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خارجی عناصر ایران اور پاکستان کے اچھے تعلقات کے خلاف ہیں اور انھیں ٹھیس پہنچانا چاہتے ہیں مگر ہمیں ان عناصر کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دینی ہوگی.
یاد رہے کہ ایران اور پاکستان خطے میں دو اہم پڑوسی اور طاقتور ملک ہیں جو ثقافتی، مذہبی اور دینی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں اور دونوں ملکوں کے تعلقات ہمیشہ خوشگوار رہے ہیں.
دونوں ممالک کے درمیان لمبی سرحد ہونے کے باوجود ہمیشہ امن کی سرحد رہی ہے مگر حالیہ برسوں میں بعض دہشتگرد گروہوں نے جنہیں بیرونی قوتوں کی پشت پناہی حاصل ہے، خطے میں بدامنی پھیلا کر پاک ایران سرحد کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے جس کی ایک مثال زاہدان میں پاسداران انقلاب فورسز کی بس پر خودکش حملہ تھا جس میں 27 اہلکار شہید ہوئے.
اس کے باوجود ایران اور پاکستان بیرونی دباو اور تیسرے فریق کے منفی عزائم کے باوجود اپنے تعلقات کو اچھی سطح پر رکھے ہوئے ہیں. اس وقت مشترکہ سرحدوں کے مسئلے کے علاوہ مشترکہ گیس پائپ لائن جیسے مسائل ہیں جنہیں ابھی تک حل نہیں کیا جاسکا جبکہ ایران نے اس پائپ لائن کو پاکستان کی سرحد تک پہنچایا ہے.
ارنا نیوز کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے خاتون پاکستانی سفیر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان جتنا اقتصادی اور تجارتی تعاون کو مضبوط بنائیں اتنا ہی سرحدوں میں دہشتگردوں کے ارد گرد گھیرا تنگ ہوگا.
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں دہشتگردی کا قلع قمع کرنے کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعاون کرتا ہے اور اس کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا.
رفعت مسعود نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان مشترکہ سرحدوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے ایران کے ساتھ کسی بھی سطح پر تعاون کرنے پر آمادہ ہے تاہم کچھ خارجی عناصر بھی موجود ہیں جن کی یہی خواہش ہے کہ پاک ایران تعلقات اچھے نہ ہوں لیکن ہمیں ان دشمنوں کے عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دینا.
انہوں نے مزید کہا کہ تقریبا 30 سال سے افغانستان میں جنگ جاری ہے لہذا افغانستان، پاکستان اور ایران کے ساتھ سرحدوں پر کچھ واقعات کا رونما ہونا کوئی غیرمعمولی بات نہیں.
پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ اگر آپ یورپ چلے جائیں وہاں تو کوئی سرحد بندی نہیں اور لوگ نقل و حرکت کرتے ہیں مگر پھر بھی مشکلات ہوتی ہیں. ہمیں خطے میں دہشتگردوں کی موجودگی کا علم ہے اور ہماری حکومت اور فوج کو بھی یہ پتہ ہے کہ وہ کونسے گروہ ہیں اور انھیں کہاں سے پشت پناہی اور مالی سپورٹ مل رہی ہیں جبکہ ایرانی حکومت اور فوج کو بھی اس کا علم ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت فوج، قانون نافذ کرنے والے ادارے، وزارت داخلہ ، خارجہ اور دیگر سیاسی حکام کے درمیان اچھا تعاون موجود ہے اور یقینا یہ تعاون جتنا مضبوط ہوگا اتنا ہی سرحدوں کی سلامتی میں اضافہ ہوگا.
خاتون پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ اگر مشترکہ سرحدوں پر امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے اور دہشتگردوں کے ارد گرد گھیرا تنگ کرنا ہے تو ہمیں صوبہ بلوچستان اور ایران کو سیستان و بلوچستان صوبے کے درمیان معاشی سرگرمیوں کو مزید بڑھانا ہوگا.
انہوں نے مطالبہ کیا کہ سرحدی مارکیٹوں کے قیام کو یقینی بنانا ہوگا تا کہ وہاں کے عوام کو خوشحالی ملے اور یقینا اس سے دہشتگردوں کا حوصلہ پست ہوگا.
جب پاکستانی سفیر سے پوچھا گیا کہ آپ کی سرحدی بازاروں کے فروغ کے لئے کیا حکمت عملی ہے، تو انھوں نے کہا کہ پاکستانی حکام تفتان میں مارکیٹ کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور اس کے علاوہ دو سے تین سرحدی مارکیٹیں بھی تعمیر کرنا چاہتے ہیں. ایرانی حدود میں میرجاوہ کی صورتحال بہت اچھی ہے تاہم پاکستانی حدود میں ابھی بہت کام کرنا باقی ہے.
انہوں نے وزیراعظم پاکستان عمران خان اور ان کی خارجہ پالیسی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے اپنی انتخابی مہم کے دوران علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات بڑھانے پر زور دیا تھا، ہمارے یورپ اور امریکہ جیسے بڑے ممالک کے ساتھ بھی تعلقات ہیں لیکن یہ بھی بڑی اہم بات ہے کہ پاکستان کو علاقائی ممالک کے ساتھ بھی اچھے تعلقات رکھنا ہوں گے.
رفعت مسعود نے مزید کہا کہ عمران خان نے خارجہ تعلقات سے متعلق چار ممالک ایران، بھارت، افغانستان اور چین کے نام لئے تھے. پاکستان چین اقتصادی اور سیاسی تعلقات گزشتہ برسوں سے بہت اچھے ہیں لیکن بھارت کے ساتھ ہماری ٹسل ہے جبکہ وزیراعظم نے بارہا کہا ہے کہ ہمیں بیٹھ کر تمام مسائل پر گفتگو کرنی ہوگی.
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور حکومت پاکستان کی یہ بھی خواہش ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو جس سے دونوں ملکوں کی سرحد بھی امن رہے کیونکہ افغانستان میں امن و استحکام پاکستان کے لئے فائدہ مند ہے.
رفعت مسعود نے ایران سے متعلق کہا کہ پاکستان کے ایران سے تعلقات تاریخی ہیں، اور وزیراعظم چاہتے ہیں کہ ہماری سرحد امن و سلامتی کی سرحد ہو.
انہوں نے وزیراعظم پاکستان کے حوالے سے کہا کہ خطے میں ہماری توجہ ہمسایوں پر مرکوز ہے اور ہمسایوں سے مراد یہی پانچ ممالک ہیں.
پاکستانی سفیر نے کہا ہے کہ عمران خان نے اپنی انتخاباتی مہم میں اعلان کیا تھا کہ وہ ایران سمیت علاقائی ممالک کا دورہ کریں گے اور خطے کے تمام سربراہان مملکت سے ملیں گے.
انہوں نے مزید کہا کہ کچھ دن پہلے وزیراعظم عمران خان کے دورے ایران کے لئے حتمی تاریخ پر کام کرنا تھا مگر بدقسمتی سے وزیراعظم کی مصروفیات کی وجہ سے یہ دورہ ممکن نہ ہوا لیکن ہم یقین دلانا چاہتے ہیں کہ عمران خان صاحب ایران جیسے خوبصورت ملک کا جلد دورہ کریں گے اور صدر روحانی سے بھی ملیں گے.
رفعت مسعود نے کہا کہ گزشتہ سات مہینوں کے دوران ایران اور پاکستان کے درمیان متعدد سیاسی اور اقتصادی وفود کا تبادلہ ہوا، ڈاکٹر ظریف صاحب نے دو مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا جبکہ ہمارے وزیر خارجہ قریشی صاحب بھی ایک دفعہ ایران آئے جبکہ نائب ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بھی اسلام آباد کا دورہ کیا اور وہاں اعلی سفارتی حکام سے ملے.
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان عسکری وفود کے بھی تبادلے ہوئے، جبکہ پاکستانی محکمہ تیل کے ایک وفد نے ایران کا دورہ کیا اور جلد مستقبل میں ایرانی وزارت تیل کا وفد بھی پاکستان جائے گا. ایرانی اسپیکر نے چھ ملکی اسپیکرز کانفرنس میں شرکت کے لئے گزشتہ مہینوں میں پاکستان کا دورہ کیا تھا.
پاکستانی سفیر نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس منصوبے کو مکمل کرنے کا پابند ہے. ہم اس منصوبے کی فنانسنگ کی فراہمی کے طریقہ کار پر کام کررہے ہیں مگر اس منصوبے سے متعلق پاکستان کے سیاسی عزم پر شک کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے.
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ایران کے ذریعے گیس پاکستان لائی جائے کیونکہ ہمیں گیس کی ضرورت ہے اور ہمیں روزانہ کی بنیاد پر گیس کی مشکلات کا سامنا ہے.
پاکستانی سفیر نے مزید کہا کہ ہم گیس فروخت سے متعلق پابندیوں کے اثرات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں، اس پورے عمل کے لئے سنجیدگی سے آگے بڑھنا ہوگا اسی لئے پائپ لائن بچھانے کے لئے سرمایہ کاری اور فنانسنگ کے طریقہ کار کو دیکھ رہے ہیں.
انہوں نے کہا کہ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ گیس پابندیوں میں شامل نہیں جبکہ گیس کی مد میں رقم کی ادائیگی پابندی میں آجاتی ہے اسی لئے ہم ایران کو رقم کی ادائیگی کے لئے ایک موثر میکنزم چاہتے ہیں یا بارٹر ٹریڈ کے ذریعے اسے یقینی بنائیں جس کے بعد آئی پی منصوبے کی تکمیل ممکن ہوگی.
رفعت مسعود کا کہنا تھا کہ پاکستان تمام راستے بشمول ملکی اور غیرملکی سرمایہ کاری کا استعمال کرے گا لیکن اہم بات یہ ہے کہ پاکستان اپنے عہد پر قائم ہے اور منصوبے کی راہ میں لاجسٹک مسائل اصل رکاوٹ ہیں.
پاکستانی سفیر نے دہشتگردوں کے ہاتھوں یرغمال ایران کے سرحدی اہلکاروں سے متعلق کہا کہ وہ تین ہفتے پہلے پاکستان گئی تھیں جہاں انہوں نے وزارت داخلہ اور فوج سے اس حوالے سے پوچھا تھا تو انھیں بتایا گیا کہ یرغمال ایرانی اہلکاروں میں سے 5 رہا ہوئے ہیں اور باقی کے 7 اہلکاروں کی رہائی کے لئے بھی کوششیں جاری ہیں.
انہوں نے مزید کہا کہ اتنا ہمیں پتہ ہے کہ مغوی ایرانی اہلکار صحت مند ہیں اور یہ اچھی بات ہے مگر ان کی واپسی سے متعلق کوئی نئی خبر نہیں تاہم تمام متعلقہ اداروں کی کوشش جاری رہے اور ہماری دعا ہے کہ مغوی ایرانی اہلکار جلد رہا ہوں.
انہوں نے ایران جوہری معاہدے سے متعلق امریکی علیحدگی اور ایران پر پابندیوں کے دوبارہ اطلاق پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب جوہری معاہدہ طے پایا پاکستان پہلا ملک تھا جس نے اس کا خیرمقدم کیا کیونکہ ہماری نظر میں مشکلات کا حل پُرامن مذاکرات سے ممکن ہے اور ہمیں یقین تھا کہ ایران جوہری معاہدہ عالمی برادری، یورپ اور امریکہ کی جانب سے ایک مثبت قدم ہے.
رفعت مسعود نے بتایا کہ ہم ایران جوہری معاہدے کی حمایت کرتے ہیں، اور اس کے علاوہ تمام مسائل بشمول ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے سے متعلق امریکہ سمیت کسی بھی ملک کے اقدام کا بھی خیرمقدم کرتے ہیں.
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خود بھی پابندیوں کا شکار رہا ہے لہذا ہمیں اچھی طرح پتہ ہے کہ پابندیوں سے عام عوام کو بڑی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے.
پاکستانی سفیر نے بتایا کہ ہمسایوں سے روابط بڑھانا وزیراعظم عمران خان کی توجہ کا مرکز ہے، لہذا ہمسایوں کے درمیان تعلقات بڑھانا ہو تو اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہوگا اور ہمیں امید ہے کہ اس حوالے سے ہم اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعاون کو مزید بڑھاسکے.
انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے پاکستانی اور ایرانی تاجروں کی سرگرمیوں کے لئے کوئی بینکنگ چینل دستیاب نہیں، دونوں ممالک کے درمیان آزادانہ تجارتی معاہدہ ضروری ہے تا کہ سرحدوں میں مشترکہ تجارتی تعاون کو بڑھایا جاسکے.
رفعت مسعود کا کہنا تھا کہ جب جوہر معاہدے طے پایا تو سب میں یہی امید آئی کہ اب ایران کے خلاف پابندیوں کے خاتمے سے تجارت بڑھے گی اور ایران اپنے شراکت داروں کے ساتھ بغیر کے مشکل کے اقتصادی تعاون کرسکتا ہے.
انہوں نے یورپی ممالک کی جانب سے ایران کے لئے مخصوص مالیاتی نظام انسٹیکس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب اس میکنزم کا اجرا ہوگیا تو پاکستانی وزارت خزانہ اور تاجر یہ جاننا چاہتے تھے کہ وہ کس طرح اس فائدہ اٹھاسکتے ہیں اور پاکستانی تاجر ایران کے ساتھ لین دین کے لئے انسٹیکس میکنزم انھیں کیسا فائدہ ملے گا.
رفعت مسعود نے مزید کہا کہ انسٹیکس میکنزم کے نفاذ کو قریب سے دیکھ رہے ہیں اور اگر ایران اور پاکستان کے درمیان ایسا ہی میکنزم کا اجرا کیا جائے تو بھی اس کا خیرمقدم کرتے ہیں.
اس موقع پر انہوں نے افغان مسئلے اور امریکہ کی سیکورٹی حکمت عملی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی رویے سے ہمیں حیرت نہیں ہوئی اور جیسا کہ میں نے بتایا تھا کہ پاکستان نے کئی سالوں سے امریکی پابندیوں اور اس کی افغان پالیسی کے مشکلات سے دوچار رہا ہے.
انہوں نے کہا کہ امریکہ ہمارا ایک بڑا تجارتی شراکت دار ہے تاہم افغانستان میں امریکی پالیسی اور خطے سے متعلق امریکی رویے سے ہوشیار رہنا ہوگا اسی وجہ سے پاکستان علاقائی رابطے اور تعاون پر یقین رکھتا ہے.
رفعت مسعود نے بتایا کہ ہم تمام فریقین کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں، پاکستان خطے میں قیام امن و استحکام کے لئے کسی بھی ملک اور عالمی اداروں کے ساتھ بات چیت کے لئے آمادہ ہے.
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغان امن عمل کو کامیاب بنانا ہے تو طالبان کے ساتھ بات کرنی ہوگی اور یہی ہماری طویل عرصے سے پالیسی رہی ہے. امریکہ پہلے اس طریقے سے اتفاق نہیں کررہا تھا نہ صرف امریکہ بلکہ یورپ اور خود ایران نے بھی طالبان کے ساتھ کوئی مذکرات نہیں کئے مگر آج سب اس نقطے پر پہنچ گئے ہیں کہ طالبان افغانستان میں ایک سیاسی قوت ہیں اور ہم ان کے ساتھ مذاکرات کے لئے مجبور ہیں.
پاکستانی سفیر نے پاک ایران تجارتی شرح سے متعلق کہا کہ ایران اور پاکستان دوطرفہ تجارت کو 5 ارب ڈالر سے مزید بڑھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم اس وقت قانونی تجارتی شرح دو ارب ڈالر سے کم ہے. ہماری زیادہ تر تجارت سرحدوں پر ہورہی ہے جہاں قانونی اور غیرقانونی طریقوں کا رواج ہے.
ان کا کہنا تھا کہ اگر انھیں غیرقانونی تجارتی سرگرمیوں کو قانونی دائرے میں لایا جائے تو پاک ایران تجارتی شرح 5 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر جائے گی. پاک ایران آزاد تجارتی معاہدے کے اجرا سے دوطرفہ تجارت میں آسانی ہوگی اور موجودہ تجارتی شرح میں بھی اضافہ ہوگا. اسی حوالے سے ایک ایرانی وفد جلد پاکستان جائے گا.
انہوں نے ایران اور پاکستان کے درمیان مقامی کرنسیوں میں تجارت سے متعلق کہا کہ اگر کسی بھی ایرانی اور پاکستانی بینک ایک دوسروں کے ملکوں میں اپنی شاخیں کھولیں تو ہم روپیہ اور ریال میں تجارت کرسکتے ہیں.
رفعت مسعود نے مزید کہا کہ ڈالر یا یورو کے اپنے مسائل ہیں، جیسا کہ ایران بھارت، چین اور ترکی کے ساتھ مقامی کرنسی میں تجارت کررہا ہے ویسے ہی وہ پاکستان کے ساتھ تجارت کرسکتا ہے.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@