وارسا کانفرنس دشمن کی بے بسی تھی: سپریم لیڈر

تہران، 18 فروری، ارنا - سپریم لیڈر اسلامی جمہوریہ ایران نے فرمایا ہے کہ امریکہ نے ایران مخالف وارسا کانفرنس میں شرکت کے لئے اپنے اتحادیوں اور بعض کمزور حکومتوں کی قیادت کو بلایا تھا مگر اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا بلکہ دشمن کی بے بسی ظاہر ہوئی.

ان خیالات کا اظہار قائد اسلامی انقلاب حضرت آٰیت اللہ العظمی ''سید علی خامنہ ای'' نے پیر کے روز تہران میں صوبہ مغربی آذربائیجان سے تعلق رکھنے والے عوام کے ساتھ ایک ملاقات میں خطاب کرتے ہوئے کیا.
اس موقع پر انہوں نے فرمایا کہ وارسا کانفرنس کا مقصد ایران کے خلاف تھا جہاں امریکیوں نے اپنے اتحادیوں اور کمزور حکومتوں کے رہنماؤں کو شرکت کے لئے بلایا تھا مگر اس کانفرنس سے دشمن کی بے بسی کے سوا کچھ نہیں نکلا.
انہوں نے مزید فرمایا کہ ہمارے دشمن جب بے بسی محسوس کرتا ہو تو وہ غم و غصے کا شکار ہوجاتا ہے جس کے بعد وہ متنازع صورتحال پیدا کرنے پر اترتا ہے.
آیت اللہ خامنہ ای نے فرمایا کہ جب اسلامی انقلاب کا درخت کی جڑیں کمزور تھیں تب ہمارے دشمن ایک ہوگئے تھے مگر پھر بھی وہ کچھ نہ کرسکے لہذا آج جب اسلامی انقلاب کا درخت کی جڑیں مضبوط ہوچکی ہیں تو وہ ہمارے خلاف کچھ کرنے کی حیثیت نہیں رکھتے.
انہوں نے مزید فرمایا کہ وارسا کانفرنس میں جسے قبل از وقت شکست ہوئی، بعض نام نہاد مسلم ممالک کے رہنما صہیونی قیادت کے ساتھ بیٹھ ہوئے تھے جو ان کے لئے باعث شرم ہے. ایسے رہنماوں کی اپنی قوم کے سامنے بھی کوئی عزت نہیں ہے.
سپریم لیڈر ایران نے ملکی حکام کو ہدایت دی ہے کہ دشمن کی صحیح طرح شناخت کریں اور ہوشیار رہیں کہ دشمن آپ کو دھوکہ نہ دے چاہئے دشمن ہنسے یا آپ پر غصے کا اظہار کرے.
انہوں نے مغربی ممالک کے رویئے اور اقدامات کو دھوکہ دہی پر مبنی قرار دیتے ہوئے مزید فرمایا کہ امریکی نیت تو ہمارے لئے واضح ہے اور انہوں نے ایران کو نقصان پہنچانے کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑی تاہم یورپ سے بھی ہوشیار رہنا ہوگا کیونکہ ان کا عمل بھی مشکوک ہے.
آیت اللہ خامنہ ای نے فرمایا کہ میں حکومت اور حکام کو یہ نہیں بتارہا کہ انھیں کیا کرنا چاہئے مگر انھیں ایسا قدم اٹھانا ہوگا کہ دھوکے میں نہ آئیں.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@