ظریف کی وائٹ ہاؤس کی جوہری معاہدے سے نکلنے اور یورپ کیخلاف دباؤوں کی پالیسیوں پر تنقید

تہران، 17 فروری، ارنا – ایرانی وزیر خارجہ نے امریکہ کی جانب سے جوہری معاہدے سے نکلنے اور سلامتی کونسل کے عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی کے لئے یورپ کے خلاف دباؤں کو تنقید کا نشانہ بنایا.

یہ بات "محمد جواد ظریف" ںے اتوار کے روز میونخ سیکورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی.اس موقع پر انہوں نے اسلامی انقلاب کی 40ویں سالگرہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران امریکہ کی جانب سے ایران مخالف دشمنی اقدامات میں اضافہ ہوا ہے اور سلامتی کونسل میں تصدیق ہونے والے عالمی جوہری معاہدے سے نکلنا ان میں سے ایک ہے.
ظریف نے کہا کہ اب امریکہ دوسروں کو ایران جوہری معاہدے کی خلاف ورزی پر مجبور کرنے کے لئے کوشش کر رہا ہے.
انہوں نے گزشتہ ہفتے میں امریکہ کی جانب سے پولینڈ میں منعقد ہونے والے ایران مخالف اجلاس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام نے وارسا اجلاس اور گزشتہ روز میونخ اجلاس میں یورپ کے خلاف اپنے وعدوں کے مطابق عمل کرنے پر الزام لگا دیا.
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ کبھی بھی اس حقیقت کو منظور نہیں کرتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو اپنی سرنوشت کا تعیین کرنے کا حق ہے لہذا گزشتہ سے ہمارے ملک کے خلاف کئے گئے اقدامات کو جاری رکھ رہا ہے.
انہوں نے مزید بتایا کہ جبکہ امریکہ دعوی کرتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران علاقے میں مداخلت کر رہا ہے ہماری سرحدوں میں امریکی فورسز کی بیس قائم ہے. امریکہ نے اپنے ہتھیاروں کی فروخت کے ذریعہ علاقائی وسائل کو لوٹ کیا ہے.
ظریف نے کہا کہ آمار و ارقام کے مطابق، رواں سال کے دوران خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک کی فوجی اخراجات 100 ارب ڈالر سے زائد ہوگا جو ایران کا سات گنا ہے تو کون علاقے میں بڑھتی ہوئی بدامنی کا باعث ہے؟
انہوں نے کہا کہ علاقے کی دھمکیوں کیا ہے؟ یمنی مظلوم عوام کے خلاف استعمال ہونے والے ہتھیار یا داعش دہشتگردوں کے خلاف قانونی دفاع کے لئے ایرانی میزائل؟
انہوں نے کہا کہ کیا اسلامی جمہوریہ ایران دوسروں کے لئے بڑا خطرہ ہے یا جھوٹا چرواہا نیتن یاہو؟ جنہوں نے واضح طور پر ہمارے ملک کے خلاف دھمکی دی ہے.
274*9393**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@