ایران میزائل پروگرام، ظریف نے ایک بار پھر یورپی مؤقف کو مسترد کردیا

تہران، 17 فروری، ارنا – ایرانی وزیر خارجہ نے ملک کی میزائل سرگرمیوں سے متعلق یورپی ممالک کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا کہ کیا ہمیں ہتھیاروں سے بھرے ہوئے خطے میں اپنے دفاع کے لئے خالی ہاتھ رہنا چاہئے.

یہ بات 'محمد جواد ظریف' نے اتوار کے روز جرمن جریدے 'شپیگل' میں شائع ہونے والے انٹرویو میں کہی.
انہوں نے مزید کہا کہ اگر یورپ ایرانی میزائل پروگرام سے مخالف ہے تو انہیں ہمیں لڑاکا طیارہ فروخت کرنا چاہئے.
ظریف نے مزید کہا کہ ایران پر مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ کے دوران ہمارے پاس اپنے دفاع کے لئے کوئی فوجی آلہ نہیں تھا اور اس وقت ہمارے پاس فوجی طاقت میں اضافہ کرنے کےعلاوہ کوئی چارہ نہیں ہے.
انہوں نے کہا کہ ہم نے اس سے پہلے بارہا اعلان کیا ہے کہ ہماری میزائل طاقت کا مقصد صرف ملکی دفاع ہے.
انہوں نے ایران کے خلاف سنیئر نائب امریکی صدر 'مائیک پینس' کے بے بنیاد بیانات پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران ہمیشہ یہودیوں کا حامی ہے اور صرف صیہونیوں کے مخالف ہیں.
ایرانی وزیر نے کہا کہ ہالوکاسٹ صرف ایک واقعہ تھا اور کوئی شخص بشمول نائب امریکی صدر کو اس واقعے سے غلط استعمال کرنے کا حق نہیں ہے.
ظریف نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایران اور شام کے باہمی تعاون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شام میں دہشتگردی اور انتہا پسندی سے لڑنے کے لیے ایران کی موجودگی شام کی درخواست پر ہے اور جب تک شام چاہے تو ہم شام میں رہیں گے.
انہوں نے صدر بشار اسد کے اقتدار میں رہنے یا نہ رہنے کے بارے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایران کا موقف کوئی خاص شخص پر مرکوز نہیں ہے کیونکہ شام کی مستقبل کو اس ملک کے عوام کا تعین کرنا ہوگا.
انہوں نے یورپ کے دہشتگردی حملوں میں ایران پر الزام لگانے کو مسترد کرتے ہوئے کہا یہ الزامات بالکل جھوٹ اور کھوکھلاپن ہیں
9410*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@